اب سپریم کورٹ ڈیمز بنانے سے متعلق آگے بڑھے گی، چیف جسٹس

اب سپریم کورٹ ڈیمز بنانے سے متعلق آگے بڑھے گی، چیف جسٹس
اگر کالا باغ ڈیم پر چار بھائی متفق نہیں تو پھر متبادل کیا ہے۔۔۔۔فائل فوٹو

لاہور: سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں لارجر بینچ کالا باغ ڈیم بنانے سے متعلق بیرسٹر ظفر اللہ خان کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کر رہا ہے۔


دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس وقت پاکستان میں بحث کالا باغ ڈیم کی نہیں کر رہے اور ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ پانی کی قلت کیسے ختم ہو گی۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ معلوم ہے آئندہ وقتوں میں پانی کی اہمیت کیا ہو گی لیکن 4 بھائی جس پر متفق نہیں تو پھر متبادل کیا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم نے پانی کی قلت کے خاتمے کا تہیہ کر لیا ہے اب سپریم کورٹ ڈیمز بنانے سے متعلق آگے بڑھے گی اور کردار ادا کرے گی۔ عید کے بعد سپریم کورٹ کا لاء اینڈ جسٹس ڈیپارٹمنٹ سیمینار کرائے گا اور ماہرین تجاویز دیں بیٹھ کر ایس او پیز بنائیں گے۔

 مزید پڑھیں: فاروق ستار کا این اے 241، 245 اور 247 سے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا اعلان

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ایک ٹیم بنا دیتے ہیں جس میں اعتزاز احسن اور دیگر ماہرین کی خدمات لیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بتایا جائے ملک میں ڈیمز کس طرح بنائے جائیں اور آپ سفارشات دیں ہم پارلیمنٹ سے سفارش کریں گے۔

جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ قانون بنانے کی صلاحیت ملک میں ختم ہو چکی ہے۔ لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے ذریعے قانون بنا کر پارلیمنٹ کو سفارش کی جا سکتی ہے اور قوم اختیار دے تو سپریم کورٹ اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں خود نمائی کرنے والے لوگ نہیں چاہییں بلکہ سیمینار کے ذریعے پہلا قدم اٹھائیں گے جس کا آغاز کراچی اور سندھ سے کریں گے۔

دوران سماعت سابق چیئرمین واپڈا ظفر محمود عدالت میں پیش ہوئے جن سے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ بتائیں پانی کی قلت کیسے پوری کریں جس پر انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم بنانے پر لوگوں کو مکمل آگاہی نہیں اور اسی تنازع کے بعد واپڈا کی چیئرمین شپ سے استعفا دیا تھا۔

ظفر محمود نے کمرہ عدالت میں پروجیکٹر کے ذریعے کالا باغ ڈیم پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ماحولیات کی تبدیلی پر پاکستان میں سیلاب آنا شروع ہوئے۔ گلیشیر تیزی سے پگھلنا شروع ہو چکے ہیں۔

سابق چیئرمین واپڈ نے کہا کہ بھارت نے راوی، ستلج اور بیاس کے پانی پر قبضہ کر لیا ہے اور انڈس واٹر معاہدے سے بھی خطرات ہو چکے ہیں۔ جب سیلاب آتا ہے تو بھارت پانی چھوڑ سکتا ہے جب کہ بھارت کے ڈیمز میں تکنیکی طور پر زیادہ پانی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔

ظفر محمود نے کہا کہ ڈیمز بنانے سے متعلق ہم نے کوتاہی کی جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا حکومتوں کو ان کا ادراک نہیں رہا جس پر ظفر محمود کا کہنا تھا کہ تمام حکومتیں ہی اس مجرمانہ غفلت کی ذمے دار ہیں۔ بھارت تسلسل کے ساتھ پانی بند کرنے کی کوشش کرے گا اور وہ اس حوالے سے ہمیں مزید تنگ کرے گا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ زندگی کے لیے سب سے زیادہ پانی کی اہمیت ہے اور یہ بتائیں عدالت اس میں کیا کردار ادا کر سکتی ہے۔

سابق چیئرمین واپڈا نے کہا کہ کوئٹہ کا پانی اتنا نیچے جا چکا کہ بحالی میں 200 سال لگیں گے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ 10 سال بعد تو کوئٹہ میں پینے کا پانی نہیں ہو گا تو لوگوں کو وہاں سے ہجرت کرنا پڑے گی۔

ظفر محمود نے کہا کہ لوگوں میں پانی کے استعمال اور بچت پر آگاہی دینے کی ضرورت ہے اور صنعتی ماحول سے زیر زمین پانی بھی خراب ہو رہا ہے اور صنعتوں سے متعلق کوئی مربوط پالیسی نہیں۔ جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ معلوم ہے صنعتیں فضلہ صاف کرنے کے بجائے نالوں میں پھینک رہی ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ لاکھوں گیلن گندا پانی سمندر میں جا رہا ہے جس پر ظفر محمود نے کہا کہ اس کا حل یہ ہے کہ صنعتی فضلے کے لیے ٹریٹمنٹ پلانٹ بنائے جائیں۔سماعت کے دوران مجیب پیرزادہ ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ کالا باغ ڈیم کا معاملہ متنازع ہو چکا ہے اور چاروں صوبوں کے عوام نے اس ڈیم کو خطرہ قرار دیا ہے۔

اس موقع پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ سب خطرہ محسوس نہ کریں ہم کالا باغ ڈیم پر بات نہیں کر رہے اور ہم چاہ رہے ہیں کہ پانی کے مسائل پر بات ہو اور پانی بحران پر قابو پایا جا سکے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے کل پرویز مشرف کو آنے کو کہا تو اس کا بھی سب کو خطرہ ہو رہا ہے تاہم پرویز مشرف سے کسی کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے۔ پرویز مشرف آئے اور قانون کا سامنا کرے جبکہ کسی کے لیے خطرے کی بات نہیں ہونی چاہیے۔

ایڈووکیٹ مجیب پیرزادہ نے کہا کہ پانی کے بحران اور قلت پر کسی کو اعتراض نہیں لیکن کالا باغ ڈیم کا نام جہاں آتا ہے تو تنازع کھڑا ہو جاتا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ وعدہ کرتا ہوں سپریم کورٹ کوئی ایسا حکم نہیں دے گی جس سے کوئی فریق متاثر ہو جبکہ جہاں تنازع ہو اور 4 بھائی متفق نہیں تو متبادل حل نکالیں۔

یہ بھی پڑھیں: 'سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی تعداد بڑھانے میں جلد بازی خطرناک ہے'

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم آنے والی نسل کو اچھا مستقبل دے کر جائیں گے جس پر ایڈووکیٹ مجیب پیرزادہ نے کہا کہ پوری قوم آپ کے ساتھ ہے اچھے فیصلوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ سپریم کورٹ وفاق کی عدالت ہے اور ہم جوڑنے کے لیے بیٹھے ہیں توڑنے کے لیے نہیں بیٹھے۔

سماعت کے دوران پیپلز پارٹی کے رہنما تاج حیدر نے کہا کہ پانی کی قلت پر قابو پانے کے کئی حل موجود ہیں اور کئی منصوبے ہیں جس میں سمندر کا پانی میٹھا بنانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ منصوبے تو کاغذ پر تھے ہم نے نوٹس لیا تو کام شروع ہوا۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں