سندھ میں وی آئی پیز سے غیر ضروری سیکیورٹی واپس لینے کا حکم برقرار

سندھ میں وی آئی پیز سے غیر ضروری سیکیورٹی واپس لینے کا حکم برقرار
آئی جی سندھ نے عدالت کو بتایا کہ تمام وی آئی پیز سے اضافی سیکیورٹی واپس لے لی گئی۔۔۔فائل فوٹو

کراچی: سپریم کورٹ نے سندھ بھر میں تمام وی آئی پیز سے غیر ضروری سیکیورٹی واپس لینے کا حکم برقرار رکھا ہے۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں وی آئی پیز سے اضافی سیکیورٹی واپس لینے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے آئی جی سندھ سے کہا کہ 4 ہزار افراد کو سیکیورٹی دی ہوئی ہے خواجہ صاحب خدا کا خوف کریں۔


اس پر آئی جی سندھ نے عدالت کو بتایا کہ تمام وی آئی پیز سے اضافی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔ سیکیورٹی مختلف افراد کو دی گئی ہے جنہیں قانون اجازت دیتا ہے۔

 

مزید پڑھیں: نثار کو ٹکٹ دینے پر نواز شریف اور شہباز شریف میں اختلاف

جسٹس ثاقب نثار نے حکم دیا کہ کسی ایسے شخص کو سیکیورٹی نہ دیں جسے قانون اجازت نہیں دیتا۔عدالت نے تمام وی آئی پیز سے غیر ضروری سیکیورٹی واپس لینے کا حکم برقرار رکھا اور کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔

میڈیا نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے کہا کہ جنہیں جان کا خطرہ ہے انہیں صوبائی حکومت نے سیکیورٹی دی ہے اور ایسے افراد کی فہرست عدالت میں جمع کرا دی ہے اب جس کو سیکیورٹی چاہیے وہ صوبائی حکومت سے رابطہ کرے۔

 

یہ خبر بھی پڑھیں: ابتک 1200 نومولود بچوں کو فروخت کرنیوالی الائیڈ اسپتال کی ملازمہ گرفتار

ایک سوال کے جواب میں آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ راؤ انوار کو ہم نے کوئی سیکیورٹی نہیں دی اور صوبائی حکومت نے ان کے گھر کو سب جیل قرار دیا ہے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں