پٹرول کی قلت، وزیراعظم عمران خان کا اظہار برہمی

پٹرول کی قلت، وزیراعظم عمران خان کا اظہار برہمی
کیپشن:   کسی کو بھی اختیارات کے ناجائزاستعمال سے دولت بنانے کی اجازت نہیں دیںگے، عمران خان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے ملک بھر میں پٹرول کی قلت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام نے پی ٹی آئی کو احتساب کے نام پر ووٹ دیا اور بنیادی اشیا کی مناسب قیمتوں پر فراہمی ترجیح ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔ اجلاس کے دوران شوگر انکوائری رپورٹ کی روشنی میں کارروائی کے آغاز پر اظہار اطمینان کیا گیا جبکہ شوگر انکوائری رپورٹ کی روشنی میں کارروائی کی سفارشات منظور کر لی گئیں۔

اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بلاامتیاز احتساب تحریک انصاف کے منشور کا حصہ ہے۔ پی ٹی آئی کو احتساب کے منشور پر عوام نے ووٹ دیا۔ کسی کو بھی اختیارات کے ناجائزاستعمال سے دولت بنانے کی اجازت نہیں دیںگے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ بنیادی اشیائے ضروریہ کی مناسب قیمتوں پر دستیابی اولین ترجیح ہے۔ ماضی میں سیاسی اثرورسوخ استعمال کرکے عوام کی جیب پر ڈاکے ڈالے گئے۔

شوگر رپورٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں کارروائی کیلئے متعلقہ اداروں کو کیسز بھجوا دیے ہیں۔ سیاست کو کاروبار کے لیے استعمال کرنے والوں سے حساب لیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت پر برہمی کا اظہار کیا۔کابینہ ارکان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی کمی کا فائدہ ملنے کے بجائے الٹا نقصان ہو گیا۔

وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید کا کہنا تھا کہ وزارت پیٹرولیم کی غفلت سے لوگ پیٹرول کے لیے مارے مارے پھرتے رہے۔پٹرولیم بحران کے حوالے سے وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ کہا جا رہا ہے ملک میں صرف سات دن کا سٹاک رہ گیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت سوا دو لاکھ میٹرک ٹن پیٹرول موجود ہے۔ ایک دو روز میں وافر مقدار میں پیٹرول دستیاب ہو گا۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر عمر ایوب کا کہنا تھا کہ اوگرا آئل کمپنیوں کے خلاف ایکشن لے رہی ہے اور جن آئل کمپنیوں نے سٹاک ختم کیا انکے لائسنس منسوخ کیے جارہے ہیں۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم نے فیصلہ کیا کہ بحران میں ملوث اوگرا سمیت ذمہ داروں سے رعایت نہیں برتی جائے گی۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزراء نے پرائیویٹ ہسپتال مافیا کے خلاف بھی ایکشن لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پرائیویٹ ہسپتال مافیا غریب عوام کو لوٹنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

یہ معاملات وفاقی وزیر مراد سعید اور وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے کابینہ کے سامنے اٹھایا اور کہا کہ پرائیویٹ ہسپتال مافیا کورونا کے چکر میں عوام کی جیبوں تک ہاتھ ڈال رہے ہیں، صوبائی حکومتوں کو انتظامی معاملات بہتر کرنے کی ہدایت کی جائے۔