بھارتی فوج کی ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ، 2 بچے اور دو خواتین زخمی

بھارتی فوج کی ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ، 2 بچے اور دو خواتین زخمی
کیپشن:   پاک فوج نے بر وقت جواب دیتے ہوئے دشمن کی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

راولپنڈی: بھارت نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر ایک مرتبہ پھر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلا اشتعال فائرنگ کی جس کے باعث دو بچے اور دو خواتین زخمی ہو گئیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ بھارت نے لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ کرتے ہوئے سویلین آبادی کو نشانہ بنایا اور فائرنگ جند روٹ سیکٹر میں کی گئی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ جند روٹ سیکٹر کے گاؤں ڈیرہ شیر خان، سندھارا اور بامروچ میں سویلین آبادی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کی زد میں آ کر چار شہری زخمی ہوئے اور زخمی ہونے والوں میں دو خواتین اور دو بچے شامل ہیں۔ جن کی حالت تشویشناک ہے۔

ٹویٹ میں پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ زخمی ہونے والوں میں 26 سالہ مس نسرین (جس کا تعلق سندھارا گاؤں سے تھا)، 24 سالہ رابعہ، 7 سالہ مومنہ (جن کا تعلق ڈیرہ شیر خان سے ہے) زخمی ہوئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق 7 سالہ منشی اور اس کا تعلق بامروچ سے ہے، زخمی ہونے والے بچوں اور خواتین کو طبی امداد کے لیے فوری طور پر پاکستان آرمی نے نزدیکی ہسپتال میں منتقل کر دیا ہے۔

میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر فائرنگ کے بعد پاک فوج نے بر وقت جواب دیتے ہوئے دشمن کی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔

واضح رہے کہ ایک ایسے وقت میں بھارت ایل او سی پر حالات جان بوجھ کر خراب کر رہا ہے جب وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی دنیا کو باور کرا رہے ہیں کہ بھارت فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کر رہا ہے۔