رحمان ملک کا عدالت میں سامنا کرنے کیلئے تیار ہوں، سنتھیا رچی

رحمان ملک کا عدالت میں سامنا کرنے کیلئے تیار ہوں، سنتھیا رچی
کیپشن:   پیپلزپارٹی اتنی نااہل ہے کہ اسے میرا ایڈرس ہی نہیں معلوم، سنتھیا رچی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

لاہور: امریکی خاتون سنتھیا رچی نے کہا ہے کہ انہیں رحمان ملک کی جانب سے اب تک کوئی قانونی نوٹس موصول نہیں ہوا۔پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما و سابق وزیر داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے جنسی زیادتی کے الزامات لگانے والی امریکی خاتون سنتھیا رچی کو 50 ارب روپے ہرجانے کا دوسرا نوٹس بھیجا ہے۔

اس سے قبل بھی رحمان ملک نے امریکی خاتون سنتھیا رچی کو 50 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھیجا تھا۔قانونی نوٹس کے حوالے سے امریکی خاتون سنتھیا رچی کا کہنا ہے کہ  رحمان ملک کی جانب سے اب تک کوئی قانونی نوٹس موصول نہیں ہوا، کیا پیپلزپارٹی اتنی نااہل ہے کہ اسے میرا ایڈرس ہی نہیں معلوم۔

انہوں نے کہا کہ کیسے ممکن ہے کہ ہراسانی کے لیے میرا نمبر اور ایڈرس لیک کرنے والوں کو درست پتہ معلوم نہ ہو۔ کیا میں یہ سمجھوں کہ پیپلزپارٹی نے قانونی نوٹس غلط ایڈرس پر بھیج دیا ہے۔

سنتھیا کا کہنا تھا کہ میں ریاضی میں اچھی نہیں مگر سنا ہے کہ نوٹس میں 50 ارب روپے کی رقم درج ہے۔ اتنی بڑی رقم سے سندھ میں جنسی زیادتی کی روک تھام کا پروگرام شروع کیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ رحمان ملک نے ٹوئٹر پر مجھے بلاک کر دیا ہے مگر عدالت میں سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں نجی ٹی وی کے پروگرام گفتگو کرتے ہوئے سنتھیا رچی کا کہنا تھا کہ سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے ویزے کا مسئلہ حل کرانے کا کہہ کر ڈرائیور بھیج کر اپنے پاس بلایا، گلدستہ اور قیمتی تحفہ دینے کے بعد نشہ آور مشروب پلایا اور اس کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا۔

سنتھیا رچی نے الزام لگایا کہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ان سے نامناسب طریقے سے گلے ملنے کی کوشش کی جب کہ مخدوم شہاب الدین نے کندھے پر مساج کرنے کی کوشش کی۔

واضح رہے کہ حال ہی میں امریکی شہری سنتھیا رچی نے سوشل میڈیا پر پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے خلاف الزامات کی بوچھاڑ کی تھی۔

انھوں نے سابق وزیر داخلہ رحمان ملک پر جنسی زیادتی جب کہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور سابق وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین پر دست درازی کا الزام عائد کیا تھا۔

اس سے قبل سنتھیا رچی نے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے حوالے سے بھی متنازع اور نامناسب ٹوئٹ کی تھیں۔امریکی خاتون کے الزامات پر پیپلز پارٹی نے قانونی چارہ جوئی کے لیے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے۔