سوشل میڈیا کی جنگ

سوشل میڈیا کی جنگ

اس ملک میں جس کے بھی ہاتھ میں موبائیل ہے وہ دانشور بنا ہوا ہے۔ موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتا ہے اپنی پسند اور نا پسند کا اظہار کرتا ہے اور پورے یقین کے ساتھ کرتا ہے۔ اسے اپنی رائے قائم کرنے کا مکمل حق ہے اور اس سے یہ حق چھینا نہیں جا سکتا مگر معاملہ اس وقت خراب ہوتا ہے جب وہ اپنی جہالت دوسروں پر تھونپنے کے مشن پر لگ جاتا ہے۔ کچھ تو اپنی تنخواہ کے لیے یہ سب کرتے ہیں کہ مختلف سیاسی جماعتیں اور خاص طور پر تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن انہیں اس کام کے لیے باقاعدہ براہ راست یا بالواسطہ مراعات سے نوازتے ہیں۔ کچھ اپنی سیاسی فکر اور پسند نا پسند کی وجہ سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں اور ایک طبقہ وہ ہے جس نے اس پلیٹ فارم کو باقاعدہ تبلیغ کے لیے استعمال کرنا شروع کر رکھا ہے۔ پہلے آپ دیکھتے تھے کہ لوگ مختلف قرآنی آیات اور احادیث سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے تھے اور اس کا مقصد آگہی مہم کو چلا کر ثواب حاصل کرنا تھا۔ بعد میں ایک طبقہ ایسا پیدا ہوا جس نے اس اچھے کام میں بھی اپنے لیے گنجائش نکال لی اور اسے اپنی پوسٹ کی مقبولیت اور سبسکرائبر یا لائیکس میں بدل دیا۔ اب ایک مخصوص جماعت کے لوگ اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو صرف اس مقصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں کہ اس کے لیڈر کا بیان اور اس کی سیاسی سوچ دوسروں تک پہنچے کہ وہ اسے حق اور باطل کی جنگ سمجھتے ہیں اور پروپیگنڈہ وار میں وہ ایک فوجی کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ان لوگوں کو سوشل میڈیا بریگیڈ کا نام دیا گیا۔ وہ اپنی سیاسی جماعت کے لیے حق سچ میں جھوٹ کی آمیزش کو عین ثواب سمجھتے ہیں۔ اس لیے وہ لگے ہوئے ہیں انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ۔جس جھوٹ کو وہ پھیلا رہے ہیں اس کا کوئی سر پیر ہے یا نہیں۔ بدبختوں نے بہت سے جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنا رکھے ہیں اور ان کے ان جعلی اکاؤنٹس کی وجہ سے ٹوئیٹر کو خریدنے کی سب سے بڑی ڈیل بھی منسوخ ہونے کی اطلاعات موجود ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ریاست کے وسائل استعمال کرتے ہوئے سوشل میڈیا کی جنگ کے لیے تیار کیا گیا۔ یہ جنگ اتنی موثر ہے کہ بہت سے ایسے لوگ جن کے بارے میں یہ گمان ہوتا ہے کہ وہ سوجھ بوجھ رکھتے ہوں گے وہ بھی اسی بازاری زبان کو استعمال کرتے ہیں۔ اس بریگیڈ کا پہلا قول ہی یہ ہے کہ جھوٹ کو اتنا پھیلا دو کہ لوگ اسے سچ سمجھنا شروع ہو جائیں۔ اس بریگیڈ کو چلانے والوں کی مختلف حیثیتیں اور مختلف تنخواہیں مقرر ہیں۔ یہ وہ جہادی ہیں جنہیں سوشل میڈیا کی جنگ کے لیے تیار کیا گیا ہے اور اب وہ اپنی سوچ اور فکر کے مطابق اس معاشرے کو ترتیب دینے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

آپ نے حال ہی میں ایک تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی جنکا تعلق کراچی سے ہے ان کا بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہوئے سنا جس میں انہوں نے دھمکی دی کہ اگر عمران خان کے بال کو بھی کچھ ہوا تو وہ پاکستان کے ذمہ داران پر خودکار حملہ کریں گے اور ان کے خاندان کو بھی ایسے ہی نتائج کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ انہوں نے یہ دھمکی بھی دی کہ عمران خان کے چاہنے والے ایسے جانثار 

لاکھوں میں ہیں جو خودکش حملے کریں گے۔ یہ پہلے صاحب نہیں جنہوں نے اس طرح کی دھمکی دی ہے اس سے پہلے جناب شہریار آفریدی سمیت ایک دو دوسرے لوگوں نے بھی خودکش بمبار بننے کی خواہش کا اظہار کیا تھا تو سوال یہ ہے کہ یہ سیاسی جماعت اپنے لوگوں کی کس طریقے سے ذہنی تربیت کر رہی ہے۔ کسی نہ کسی جگہ تو یہ معاملات چل رہے ہیں کوئی نہ کوئی تو ہے جو تحریک انصاف میں موجود لوگوں کو یہ سلیبس پڑھا رہا ہے۔ شیخ رشید کا بیان بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ یہ خونی مارچ ہو گا جس میں کچھ لوگ عمران خان کی محبت میں اپنے آپ کو آگ لگا لیں گے۔ کیا یہ محض اتفاقات ہیں؟ آج کل صحافی ان کے نشانے پر ہیں اور وہ خاص طور پر ان کو نشانہ بنا رہے ہیں جو ان کی سوچ اور فکر کو ماننے سے انکار کررہے ہیں۔ مسلم لیگ ن پر الزام ہے کہ اس نے ماضی میں لفافہ کلچر کر فروغ دیا تھا مگر اس جماعت نے تو ان لوگوں پر ڈالروں کی بارش کر دی جو ان کے لیے ہر قسم کے جھوٹ کو گھڑنے کا ہنر جانتے ہیں۔ جماعتیں سطح پر ان کی ویڈیوز کو پروان چڑھانے کا ہنر انہیں خوب آتا ہے اور جب ڈالر ان کے منہ کو لگتے ہیں تو ان میں کئی ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ کروڑوں کا گھر وہ دو مہینے کی کمائی سے خرید سکتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو چند برس پہلے کوچہ صحافت میں وارد ہوئے اور آتے ہوئے ان کے پاس کل اثاثہ ایک موٹر سائیکل تھی اور اب کئی گاڑیوں کا فلیٹ ان کے پاس ہے۔ اتنی رفتار سے ترقی تو مائیکروسوفٹ کے بل گیٹس نے نہیں کی جتنی یہ کر رہے ہیں۔ ٹرینڈ بنانا اور انہیں چلانا انہیں خوب آتا ہے۔ ایک جعلی پوسٹ یا ٹویٹ سیکنڈز میں وائرل ہو جاتا ہے اور ٹاپ ٹرینڈ بن جاتا ہے۔ اس سارے کھیل کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا پر جو جنگ ہو رہی ہے وہ صارفین کے درمیان فکری اور سیاسی مکالمہ نہیں ہے بلکہ دو بریگیڈ ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہیں۔ یہ سوشل میڈیا عام عوام کو بھی متاثر کر رہا ہے مگر اتنا پراثر نہیں کہ ان کی سوچ پر غالب آ جائے اور انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں شریک ہونے سے روک سکے۔ اس ملک میں ایک صدر پرویز مشرف بھی تھا جس کے پاس طاقت کے سارے منبع موجود تھے، سوشل میڈیا پر اس کے فالوورز کی تعداد بھی بہت زیادہ تھی مگر آج وہ دبئی میں کسمپرسی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہے۔

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا کے مصداق عمران خان کے لانگ مارچ کا بھی بہت چرچا تھا لیکن نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔ عمران خان نے دھرنا دینے کے بجائے وہاں سے کھسکنے کو ترجیح دی تو اس جھوٹ کو پھیلا دیا گیا کہ مقتدر حلقوں نے شہبازشریف سے اسمبلی توڑنے اور نئے انتخابات کے اعلان کی ایڈوائس پر دستخط کروا کے صدر کو دے دیے ہیں اور اس دن اسمبلیاں تحلیل ہو جائیں گی۔ عمران خان اس یقین دہانی پر واپس گیا ہے۔ عمران خان نے اسے صلح حدیبیہ سے تعبیر کیا۔ 2 جون گذر گیا کچھ نہیں ہوا اور اب نئی تاریخ کا اعلان شروع کر دیا گیا ہے۔ عمران خان کی اس جنگ میں ایک جرنیل کا نام شیخ رشید بھی ہے جو ہر روز ایک نئی کہانی کے ساتھ رونما ہوتا ہے لوگوں کو بے وقوف بناتا ہے اور دیہاڑی لگا کر گھر چلا جاتا ہے۔ اس کی چرب زبانی اتنی کامیاب ہے کہ اب تک اس کی بدولت وہ کئی وزارتوں کے مزے لوٹ چکا ہے۔ لگ یہی رہا ہے کہ عمران خان نے اپنے سوشل میڈیا بریگیڈ کی سیاسی اور فکری تربیت کے لیے اس کو اتالیق مقرر کر رکھا ہے۔ 

سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ ان لوگوں نے اداروں کو تقسیم کر دیا ہے۔ حیرت اس وقت ہوتی ہے جب فوج کا ایک سابق جرنیل ان کی زبان بولتا ہے۔ گذشتہ دنوں اسلام آباد میں سابق فوجیوں کے نام پر جمع ہونے والے چند سابق افسران سے جب صحافیوں نے سوالات کرنے کی کوشش کی تو انہیں قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔

سوشل میڈیا کی اس جنگ میں اپنے آپ کو بچا کر رکھنا بہت مشکل کام ہے۔ صحافت اور صحافی اس سے الگ نہیں ہو سکتے۔ ویسے بھی سٹیزن جرنلزم کے فروغ کے بعد اس کی اہمیت دو چند ہو گئی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی مطیع اللہ جان پر یہ الزام دھرتا ہے کہ وہ یوٹیوبر ہے اس کا صحافت سے کوئی تعلق نہیں تو وہ اپنی رائے سے رجوع کرے۔ آج کی دنیا اگر سوشل میڈیا کی ہے تو یہاں پر موجود خرابیوں کو دور کرنے کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت ہے اور فوری طور پر ایسے اقدامات کی ضرورت ہے کہ فیک نیوز کو چیک کرنے کا مناسب بندوبست کیا جائے۔ ایک ایسا ادارہ قائم کیا جائے جو سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے جھوٹ کو ختم کر سکے۔ دوسرا جعلی اکاؤنٹس جو جھوٹ کو پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں انہیں سوشل میڈیا سے ہٹانے کی ترکیب سوچی جائے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کہ انتظامیہ کے ساتھ مل کر فیک نیوز اور جعلی اکاؤنٹس کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں