لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں

ملک اس وقت گوناگوں مسائل بلکہ بحرانوں سے دوچار ہے،اہل دانش کی رائے میں کوئی ایک جماعت یا تنہا حکومت کے بس میں ان بحرانوں سے نبرد آزما ہونا ممکن نہیں خوا ہ مخلوط حکومت میں دس گیارہ سیاسی جماعتیں ہی شامل کیوں نہ ہوں ،ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کی غیر موجودگی میں تو ان مسائل پر قابو پانا کسی بھی طور ممکن نہیں،تا ہم مسائل اور بحرانوں سے نبٹنے کا ایک ہی حل ہے اور وہ ہے اجتماعی کوششیں،وزیراعظم شہباز شریف نے مسائل و بحرانوں سے کامیابی سے نبردآزما ہونے کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کو ’’گرینڈ ڈائیلاگ‘‘ کی پیشکش کی ہے،ملک کو درپیش صورتحال میں یہ ایک مناسب اور کارآمد تجویز ہے اگر اتفاق رائے ہو جاتا ہے اور بلا امتیاز و تفریق ڈائیلاگ کے نتیجے میں طے شدہ تجاویز پر عمل درآمد کیا جاتا ہے،ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ضروری مفاہمت کو اگر یقینی بنا لیا جاتا ہے تو یہ سیاستدانوں کی بہت بڑی کامیابی ہو گی،اس سے نہ صرف سیاسی ہم آہنگی وجود میں آئے گی بلکہ عوام کا سیاسی جماعتوں اور جمہوریت پر ڈانواں ڈول اعتماد بھی راسخ ہو جائے گا،جمہوریت کو فروغ ملے گا اور جمہوری ادارے مضبوط ہوںگے،سب سے بڑھ کر عوام کو سنگین مسائل سے نجات ملے گی جو اس وقت بد ترین معاشی بد حالی کا شکار ہیں۔

ملک کی معاشی ساکھ زیرو پوائنٹ سے بھی نیچے جا چکی ہے،ان حالات میں بھی سیاسی رہنمااپنی اناکے خول میں خود کو بند کئے بیٹھے ہیں،وہ ان جکڑ بندیوں سے نکل کر وسیع تر قومی مفاد میں پیش رفت کرتے دکھائی نہیں دیتے،دیکھا جائے تو ملک اس وقت معاشی بحران کا شکار ہے تو دوسری جانب سیاسی پراگندگی سے دوچار ہے،ملک جس قسم کے بحرانوں سے دوچار ہے اس میں ہر کسی کو بہتری کیلئے اپنا اپنا حصہ ڈالنا ہو گا،اختلافات ترک کر کے مفاہمت کا راستہ تلاش کرنا وقت کا تقاضا ہے،ایسا ماحول بنانے کی ضرورت ہے جس میں ہر کوئی اپنے تجربے،لیاقت،دانش،فہم،تعلیم اور تجربے کو بروئے کار لا کر ملک اور قوم کی خدمت کا فریضہ انجام دے،اگر مشکلات میں گھری حکومت کی ناکامی کا تماشہ دیکھنے کیلئے شور و غل کیا جاتا رہا تو آئندہ آنے والے بھی سکھ کا سانس نہیں لے سکیں گے،صرف تماشا دیکھنے تک خود کو محدود کرنے والوں کو بھی بھگتنا پڑے گا کہ اس کے اثرات صرف وقت کی حکومت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ہر کوئی اس کی زد میں آئے گا۔

 اب وزیر اعظم شہباز شریف معاشی بد حالی سے نجات کیلئے میثاق معیشت کیلئے گرینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں تو درپیش حالات میں یہ ایک بہت ہی مناسب اور قابل عمل تجویز ہے،ضروری ہے کہ ہر سٹیک ہولڈر اس میں شریک ہو کسی کو اختلاف ہے تو اپنا اختلاف اور تجاویز ڈائیلاگ میں سامنے لائے تا کہ اتفاق رائے سے کوئی چارٹر تشکیل دیا جا سکے جو طویل المیعاد ہو،حکومتیں بدلیں یا حکمران،جیسے بھی حالات جیسے بھی ہوں میثاق معیشت پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے،ترقی یافتہ اقوام کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے قومی سلامتی کے حوالے سے ان کی پالیسیاں حکومت کی تبدیلی کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتیں،جہاں کہیں بھی ترقی خوشحالی کامرانی دکھائی دیتی ہے وہاں مفاہمت اور اتفاق رائے دکھائی دیتا ہے۔

کوئی اکیلی جماعت یا تنہا حکومت کامیابی سمیٹ سکتی ہے نہ ترقی کی دوڑ میں سبقت لے جا سکتی ہے جب تک ہر کوئی اجتماعی اور انفرادی طور پر اپنا قومی کردار ادا نہ کرے،اور ہر فریق کا ملکی ترقی اور عوامی خوشحالی میں ایک طے شدہ کردار ہے،سبھی کو اس دوڑ میں اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے،معاملات بگڑتے ہی تب ہیں جب تعین کردہ ذمہ داریوں سے کوئی فریق اغماض برتتا ہے،ماضی میں ایسا حکومت اور اپوزیشن دونوں طرف سے ہوتا رہا جس کے باعث آج مسائل لا ینحل دکھائی دیتے ہیں،دور کیوں جائیں ماضی قریب میں تحریک انصاف کی حکومت اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات کی دعوت دیتی رہی مگر اپوزیشن ساتھ نہ بیٹھی اور اسے تحریک انصاف کی بدنیتی قرار دیا گیا،نتیجے میں آج بھی انتخابی نظام پر شکوک و شبہات کے سائے منڈلا رہے ہیں،یہ بھی روایت رہی کہ حکومت زعم حکومت میں اپوزیشن کو گھاس نہیں ڈالتی تھی اور اپوزیشن مخالفت برائے مخالفت میں ساتھ نہیں دیتی تھی جس کے نتیجے میں تصادم اور محاذ آرائی نے جنم لیا،اس لڑائی میں خود غرضی قومی مفاد پر غالب دکھائی دی اور نتیجہ نکلا قومی بحرانوں کی شکل میں،معیشت کی بدحالی جس پر ہر کوئی نالاں اور شاکی ہے یہ بھی اسی عدم اتفاق اور ذاتی مفاد کے کھیل کا شاخسانہ ہے۔

 بیرونی قرض جو گزشتہ برس تک جی ڈی پی کا83.50تک بڑھ چکا تھا،چند برسوں کا کارنامہ نہ تھا بلکہ گزشتہ چار دہائیوں میں اس ملک میں سیاسی افراتفری کا نتیجہ ہے،اس دوران ہر حکومت ہر وہ کام کرتی رہی جس سے اس کا اقتدار مستحکم ہو اور اگلی ٹرم میں بھی حکومت بنا سکے،آج ہمیں ادراک ہوا کہ قرض کی معیشت کی کوئی ساکھ نہیں ہوتی،معیشت وہی مستحکم ہے جو بیرونی پابندیوں سے آزاد ہے،قوم نے دیکھا کہ حکومت کو پٹرولیم مصنوعات اور ایندھن کی قیمتوں میں نہ چاہتے ہوئے بھی آئی ایم ایف کے دباؤ میں اضافہ کرنا پڑا،اگر ہم تین چار دہائی قبل اس کا ادراک کر لیتے تو آج ہمارا بال بال قرض میں نہ ڈوبا ہوتا اور نہ ہمیں آئی ایم ایف کے دباؤ میں مہنگائی کے بم نہ چلانا پڑتے وہ بھی اپنی ہی عوام پر،اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی اگر بہتری کا احساس اجاگر ہواہے تو اسے غنیمت جاننا ہو گا،اب بھی اگر ہماری سیاسی قیادت نے حالات کا ادراک نہ کیا تو خاکم بدہن معاشی دیوالیہ پن کی باتیں تو سچ ثابت ہوں گی ہی ہم اپنی آزادی بھی کھو بیٹھیں گے اور ہماری سلامتی بھی داؤ پر لگ جائے گی،سیاسی قیادت کیلئے اپنی ماضی کی غلطیوں کو سدھارنے کا یہ بہترین موقع ہے،اب بھی سدھار کی کوشش نہ کی گئی تو پھر کبھی سدھار نہ ہو سکے گا۔

 ہم اگر اپنے بہت بعدآزادی حاصل کرنے والے ممالک کی معاشی کامیابی پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے سیاسی قیادت یا حکمرانوں کے چہرے بدلنے کے باوجود ان کی قومی سیاسی اور معاشی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی بلکہ معاشی پالیسیوں میں استحکام رہا جس کے نتیجے میں ان کی عالمی تجارت اور بر آمدات میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا، اس لئے مناسب ہو گا کہ ہمارے سب سٹیک ہولڈر ایک میز پر بیٹھ کر میثاق معیشت کریں ،عمران خان اگر روس سے سستا پٹرول اور گیس خریدنے کا دعویٰ کرتے ہیں تو ان کی بھی سنی جائے اور جہاں سے سستا ایندھن ملے لیا جائے پن بجلی بنانے کے زیادہ سے زیادہ پلانٹ لگائے جائیں،پانی کی قلت کو دور کرنے اورآبی ذخائر کی تعمیر کیلئے طویل منصوبہ بندی کی جائے اور یہ ممکن نہیں جب تک ساری سیاسی قیادت اور ماہرین سر جوڑ کر نہ بیٹھیں۔موجودہ صورتحال کے حوالے سے راحت اندوری کا شعر

لگے گی آگ توآئیں گے گھر کئی زد میں 

یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

مصنف کے بارے میں