ملی یکجہتی کونسل کا بھارتی ناظم الامور کو ملک بدر کرنے اور بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ

ملی یکجہتی کونسل کا بھارتی ناظم الامور کو ملک بدر کرنے اور بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ

لاہور: دینی جماعتوں کے غیرسیاسی اتحاد کی تنظیم ملی یکجہتی کونسل نے بھارت کے گستاخانہ ریمارکس قابل مذمت قرار دیتے ہوئے بھارتی ناظم الامور کو ملک بدر کرنے اور تمام مسلم ممالک کے حکمرانوں سے بھارتی مصنوعات کا مکمل طور پر بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق منصورہ لاہور میں ملی یکجہتی کونسل پنجاب کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر ملی یکجہتی کونسل پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا کہ توہین رسالت ﷺ کسی صورت بھی قابل قبول نہیں، پاکستان کے غیور مسلمان ہندوستان کی جانب سے رسول اللہ ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔ حکومت پاکستان فی الفور او آئی سی کا اجلاس منعقد کروائے اور بھارتی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ تمام دینی جماعتیں اپنے مسلک کے اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک آواز اٹھائیں۔نریندر مودی کی پارٹی بھارت سے مسلمانوں کو ختم کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے زیر اہتمام مال روڈ پر عظیم الشان تحفظ ناموس رسالت ﷺ مارچ کا 11 جون کو انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں تمام مکاتب فکر کے لوگ ہزاروں کی تعداد میں شریک ہوں گے۔ 

انہوں نے کہا کہ سودی نظام کے خاتمے سے متعلق وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو سراہتے ہیں اور حکمرانوں سے کہتے ہیں کہ وہ عدالت کے فیصلے کی روشنی میں سود فری بجٹ لائیں، وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے مطابق سودی نظام کے خاتمے کا اعلان کیا جائے اور حکومت اس حوالے سے روڈ میپ دے۔

محمد جاوید قصوری نے کہا کہ سودی نظام کے خاتمے کے حوالے سے وفاقی شرعی عدالت کے دو ٹوک فیصلے کے بعد سپریم کورٹ میں کوئی بینک گیا تو اس کا بائیکاٹ کریں گے اور حکمرانوں کے خلاف اعلان جنگ کریں گے، سودی نظام معیشت کی وجہ سے قوم قرضوں تلے دب چکی ہے۔ 

ملی یکجہتی کونسل پنجاب وسطی کے اجلاس میں بھارت کی گستاخی اور سودی نظام کے حوالے سے متفقہ طور پر منظور کی گئی قرارداوں میں کہا گیا کہ یہ اجلاس بھارت میں حکمران جماعت کے ترجمان کی طرف سے نبی اکرم ﷺ کے بارے میں توہین آمیز ریمارکس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے، اجلاس حکومت پاکستان کے احتجاج کو نا کافی سمجھتا ہے اور ہمارا مطالبہ ہے کہ بھارتی ناظم الامور کو ملک بدر کیا جائے۔

مصنف کے بارے میں