امریکا میں ایچ ون بی ویزا پابندی ، زیادہ نقصان بھارت کو ہو گا ،ماہرین

امریکا میں ایچ ون بی ویزا پابندی ، زیادہ نقصان بھارت کو ہو گا ،ماہرین

واشنگٹن :چھ مسلم ممالک پر سفری پابندی لگانے والی ٹرمپ انتظامیہ کا ایک اور اقدام سامنے آیا ہے۔ اس میں غیر ملکی ہنر مندوں کی شریک حیات کو امریکا میں ملازمت کی اجازت دینے والے ویزے روکنے کی تیاری اور اس کے لیے عدالت میں درخواست بھی دائر کردی ہے۔


غیر ملکی ہنرمندوں کو امریکا لانے والے ویزے کو ایچ ون بی ویزا کہا جاتا ہے۔ گرین کارڈ کے منتظر ایسے ہنرمندوں کے شریک حیات کو بھی امریکا میں کام کرنے کے لیے ایچ فور ویزا جاری کر دیا جاتا ہے۔ اب امریکی محکمہ انصاف نے واشنگٹن ڈی سی کی عدالت سے رجوع کرلیا ہے کہ ایچ فور ویزا رکھنے والوں کو 2ماہ تک ملازمت کرنے سے روکا جائے۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ٹرمپ امریکا کے سابق صدر اوباما کی جانب سے غیر ملکی ہنرمندوں کو دی جانے والی یہ سہولت بھی چھین سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو اس سے پاکستانیوں سمیت لاکھوں غیر ملکی ورکرز متاثر ہوں گے۔ دوسری جانب سیف جابز نامی ایک امریکی گروپ نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس اقدام کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ایچ ون بی ویزا کے تیز رفتاری سے اجرا کا عمل عارضی طور پر 3اپریل سے بند کردیا جائے گا۔موجودہ نظام کے تحت کمپنیاں ایچ ون بی ویزا کے جلد اجرا کیلیے1225 ڈالر اضافی دے کر 15دن کے اندر پراسس کرا سکتی ہیں۔ اس وقت امریکی کمپنیاں اسی پراسس کے تحت جلد از جلد ویزے حاصل کر رہی ہیں۔ نارمل پراسس کے لیے تین سے6 ماہ کا وقت درکار ہو تا ہے۔ تیز رفتار ویزا پراسس پر 3اپریل سے پابندی لگائی جا رہی ہے، جو 6 ماہ تک برقرار رہ سکتی ہے۔

امریکا کے ایچ ون بی ویزے پر پابندی کی صورت میں سب سے زیادہ نقصان صدرٹرمپ کے چہیتے بھارت کو ہوگا۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ورجینیا میں مقیم پاکستانی امریکن وکیل فیض رسول کا کہنا تھا کہ ایچ ون ویزا سب سے زیادہ بھارتی حاصل کرتے ہیں،ویزا ختم کرنے سے سب سے زیادہ وہی متاثر ہونگے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ پالیسی ٹرمپ کے سب سے پہلے امریکا کے نعرے کے تناظر میں اپنائی جارہی ہے۔