'گستاخانہ مواد کے حوالے سے ایکشن نہ ہوا تو وزیراعظم کو طلب کر لیں گے'

'گستاخانہ مواد کے حوالے سے ایکشن نہ ہوا تو وزیراعظم کو طلب کر لیں گے'

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ میں سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کا کے مقدمے کی تیسرے روز بھی سماعت ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی پرمنصف عدالت میں آبدیدہ ہو گئے۔ وزارت داخلہ، اطلاعات، آئی ٹی اور چیئرمین پی ٹی اے عدالت میں پیش ہوئے۔ ایف آئی اے حکام کی تین ہفتوں میں گستاخوں کو بے نقاب کرنے کی یقین دہانی کراوئی اور چھ صفحات بلاک کرنے کی رپورٹ بھی پیش کر دی۔


عدالت نے گستاخانہ مواد وزیراعظم کو دکھانے کی ہدایت کی اور ریمارکس دیئے کہ بدقسمتی سے پارلیمنٹ یا ایگزیکٹوز کا اس حوالے سے کوئی کردار نہیں۔ اصل ملزم سامنے نہ آئے تو پھر سوشل میڈیا بند کرنے کا حکم دے سکتے ہیں۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا ریمارکس میں کہنا تھا کہ اس معاملہ پر پوری عدلیہ ساتھ کھڑی ہے۔ اگر وزیراعظم کو عدالت میں طلب کرنا پڑا تو کیا جائے گا۔

عدالت نے سیکرٹری اطلاعات کو تمام گستاخانہ مواد فوری ہٹانے کا حکم جاری کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیئے کہ اس معاملے سے امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔ اس مقدمے کی وہ خود نگرانی کریں گے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں