پھ سے پھٹیچر۔۔۔

پھ سے پھٹیچر۔۔۔

لفظ پھٹیچر کی ابتدا کس دور میں ہوئی ساری رات یہ سوچتے گزر گئی ،انکل گوگل بھی پھٹیچر کا ترجمہ کرنے میں ناکام نظر آئے اور آفتاب اقبال کی زبانی پتا چلا فرہنگ آصفیہ میں پھٹیچر نام کا کوئی لفظ موجود نہیں ہے۔ سنا ہے کہ مولانا غلام رسول مہر بھی نے بھی تاریخ ہندوستان میں اس لفظ کا کوئی ذکر نہیں کیا،مولانا ابوالکلام آزاد کی کتاب”آب حیات“ کو کھول کر دیکھا مگر کچھ سمجھ میں نہ آیا،آخر تنگ آکر سوچا کہ یہ لفظ پنجابی سے آیا ہو گا اس لیے تو اردو کے نامور لوگ بھی اس لفظ کی ابتدا ء یا استعمال کے بارے کچھ نہ بتا سکے۔۔۔۔


اپنے ایک بزرگ دوست سے لفظ پھٹیچر کا تذکرہ کیا تو فرمانے لگے۔" یار یہ باقاعدہ لفظ تو نہیں ہے لیکن ایک مثال کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے، قصہ کچھ یوں ہے کہ عدالتوں میں یہ لفظ وکلاء کے لیے بہت معروف ہے اسطرح قتل کے مقدمے میں ایک بڑے صاحب کا بیٹا ملوث تھا اس لڑکے کے والداپنے بیٹے کی ضمانت حاصل کرنے کے لیے عدالتوں کے چکر لگا رہے تھے اور کسی اچھے وکیل کی خدمات حاصل کرنے کا ارادہ تھا ایک وکیل صاحب کے چیمبر پہنچے جو ایک عدالت کے احاطے میں ایک بینچ سجا کے بیٹھے تھے ، بینچ کو عدالت کے احاطے میں چوروں سے بچانے کے لیے ایک بڑا اور زنگ آلود تالا بھی لگایا جاتاتھا آگے پھٹی پرانی فائلیں میز پر سجی ہوئیں تھیں لڑکے کے والد کا عدالت آنے کا پہلا اتفاق تھا اسلئے اُنھوں نے وکیل صاحب سے اپنے بیٹے کو سزا سے بچانے کی فیس کے بارے میں پوچھا جو کہ وکیل نے اپنی حالت کے حساب سے کافی کم بتائی و ہ فیس سن کے سمجھ گئے کہ یہ وکیل کوئی قابل آدمی نہیں ہے پھر اسکے بعد وہ ایک ٹھاٹھ باٹھ والے وکیل کے چیمبر پہنچے ،جو کہ کافی بڑا بھی تھا اور بہت سارے وکلا ء اپنے کاموں میں مصروف بیٹھے تھے ایک بہت بڑے میز کے پیچھے وکیل صاحب براجمان تھے جو چہرے مہرے سے ہی کافی اونچے درجے کے وکیل دکھائی دے رہے تھے۔اُنھوں نے کیس کو سنا اور ایک بھاری فیس طلب کر کے بیٹے کی جان بچانے کا وعدہ کر لیا۔جب لڑکے کے والد نے فیس سنی تو اُسے یقین آگیا کہ یہ وکیل اپنی قابلیت سے میرے بیٹے کوبچا لے گا کچھ وقت گزرنے کے بعد ایک دن سر راہ چلتے ہوئے پہلے والے وکیل سے ملاقات ہو گئی جس کو لڑکے کے والد پھٹیچر سمجھ کر چلے آئے تھے۔  اُنھوں نے دریافت کیا۔  کیا بنا آپکے بیٹے کا؟ لڑکے کے والد نے افسردگی سے جواب دیا کہ بیٹے کو پھانسی ہو چکی ہے،پھٹیچر وکیل نے بھی افسردگی سے سر جھکا لیا اور پھر لڑکے کے والد سے پوچھا بڑے  وکیل صاحب نے اس کیس کی کتنی فیس لی؟ والد نے ایک موٹی تازی رقم بتائی !

پھٹیچر وکیل صاحب نے عینک اتاری اور نہایت سنجیدگی سے جواب دیا کہ آپ نے ایسے ہی اتنی موٹی رقم خرچ کی اگر پھانسی ہی دلوانی تھی تو یہ کام تو میں نے نہایت کم داموں میں کروا لینا تھا۔

لفظ پھٹیچرفارغ آدمیوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جو کہ عادتاً  کام کرنے کے عادی نہیں ہوتے اور پھر بھی محلے بھر میں مصروف نظر آتے ہیں،اکثر چالاک لڑکیاں جس لڑکے کو پسند نہیں کرتیں اسکے لیے بھی لفظ پھٹیچر استعمال کر کے ناک منہ کو اوپر نیچے کر کے آگے گزر جاتی ہیں۔  بعض خواتین کو شادی کے بعد پھٹیچرمرد مل جاتے ہیں جو کسی کام کے نہیں ہوتے۔اکثر پنکچر لگوانے جائیں تو پنکچر لگانے والا ٹائر کو دیکھ کر کہتا ہے کہ بابو جی نیا ٹائر لگوا لیں اب یہ پھٹیچر ہو چکا ہے۔بعض لوگوں کی سوچ پھٹیچر ہوتی ہے وہ بس محلے کی عورتوں کے دیکھتے رہتے ہیں اور اپنے دماغی خیالات کے ذریعے ہی اندازہ لگا لیتے ہیں کہ یہ خاتوں کہاں جا رہی ہے اور واپسی کب تک ہوگی اور پھر محلے کانا ئی انکا آخر ٹھکانا ہوتا ہے جہاں محلے کی ساری کارستانیاں دوسرے پھٹیچروں کے حوالے کی جاتیں ہیں۔

پاکستان میں 250جماعتیں الیکشن لڑنے کی اہل ہیں جن میں پانچ سے چھ جماعتیں بڑی ہیں جو الیکشن سیٹیں جیت لیتی ہیں باقی جماعتیں اپنی کارکردگی کے حوالے سے پھٹیچر شمار ہوتیں ہیں اور جنرل الیکشن میں ایک بھی سیٹ نہیں جیت پاتیں بلکہ اُنکے سربراہ بھی ڈر کے مارے الیکشن میں حصہ نہیں لیتے کہ کیا پتا ڈبے سے کوئی ووٹ نکلتا بھی ہے کہ نہیں۔

تحریک انصاف کی ابتدا ء بھی کچھ ایسی ہی ہے اس وقت عمران خان  ایک جادوئی شخصیت کے ملک تھے پاکستان کے واحد آدمی تھے جن کوبین الااقومی شہرت حاصل تھی مگر جب اُنھوں نے تحریک انصا ف کی بنیاد رکھی تو انکی جماعت کو بالکل اہمیت نہیں ملی،وہی پاکستانی جنہوں نے عمران خان کی ایک آواز پر قدم قدم پر لیبک کہا لیکن وہی لوگ عمران خان کو بطور سیاست دان تسلیم کرنے پر تیا ر نہیں تھے،خان صاحب کو اچھی طرح یاد ہو گا کہ وہ اپنے جلسوں میں خالی کرسیوں سے بھی خطاب کیا کرتے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ خان صاحب اچھرہ کے ایک شادی ہال میں بھی جلسہ کرتے تھے اور وہ ہال بھی پوری طرح بھرا نہیں ہوتا تھا اور کپتان کے ساتھ ملنا زیادہ مشکل مرحلہ نہیں ہوتا تھا۔

کبھی  تحریک انصاف کو ملک بھر میں ٹکٹ دینے کے لیے لوگ نہیں ملتے تھے۔

اس طرح تحریک انصاف کو ملک گیر جماعت بننے کے لیے سترہ سال لگ گئے ان سترہ سالوں میں عمران خان  اپنی جماعت کی کارکردگی اور لوگوں کے رویئے  کی وجہ سے سخت مایوس ہوئے، تو کیا اتنا لمبا عرصہ عمران خان  ایک پھٹیچر جماعت کی قیادت کرتے رہے۔ بہر حال لفظ پھٹیچر ایک گمشدہ لفظ تھا جس کوعمران خان  نے زندہ کر دیا ہے یہ لفظ ہمیشہ خان صاحب کا شکریہ ادا کرتا رہے گا۔

نوٹ: بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں

عبدالروف< Blogger

عبدالرئوف بلاگر اور کالم نگار ہیں