ماہرین صحت نے بوڑھوں کو جوان کرنے کا نیا طریقہ دریافت کرلیا

کیلی فورنیا : امریکی ماہرین صحت نے بوڑھوں کو جوان کرنے کا نیا طریقہ دریافت کرلیا، کہتے ہیں عمر رسیدہ لوگوں کی رگوں میں جوان خون منتقل کرکے انہیں دوبارہ جوان بنایا جاسکتا ہے۔

ماہرین صحت نے بوڑھوں کو جوان کرنے کا نیا طریقہ دریافت کرلیا

کیلی فورنیا : امریکی ماہرین صحت نے بوڑھوں کو جوان کرنے کا نیا طریقہ دریافت کرلیا، کہتے ہیں عمر رسیدہ لوگوں کی رگوں میں جوان خون منتقل کرکے انہیں دوبارہ جوان بنایا جاسکتا ہے۔کیلی فورنیا میں طبی ماہرین کی جانب سے کئے گئے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ اگر بڑھاپے یا ادھیڑ عمری کے دوران جسم میں جوان خون داخل کردیا جائے تو کسی دوا کے بغیر ہی صحت بہتر ہوجاتی ہے اور عمر کے اس حصے میں بھی جوانی کی علامات واپس نمودار ہونے لگتی ہیں تاہم اس کیلئے سارا پرانا خون نکال کر اس کی جگہ رگوں میں جوان خون داخل کرنا ہوتا ہے۔


ماہرین کا کہنا ہے کہ طبی نقطہ نگاہ سے انسان کیلئے جوانی کا زمانہ 18 سال سے شروع ہوکر 25 سال کی عمر تک رہتا ہے، جس کے بعد جسم آہستہ آہستہ ڈھلتا چلا جاتا ہے، 40 سال کی عمر تک انسانی جسم میں یہ صلاحیت رہتی ہے کہ وہ عمر رسیدگی کے اثرات سے لڑتا رہے لیکن اس کے بعد یہ صلاحیت بھی بتدریج کمزور پڑتی چلی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ 50 سے 60 سال کی عمر میں بڑھاپا اپنی درجنوں بیماریوں سمیت بڑی تیزی سے حملہ آور ہوتا ہے۔

دوسری جانب ماہرین کے ایک طبقے کا کہنا ہے کہ خون کی تبدیلی معمول کی بات ہے اور یہ کمپنی بوڑھے لوگوں میں خاصی چھان پھٹک کے بعد ہی صحتمند جوان خون منتقل کرے گی جس سے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔