مردوں کا عالمی دن کب منایا جا ئے گا ؟

مردوں کا عالمی دن کب منایا جا ئے گا ؟

کل خواتین کا عالمی دن منایا گیا ۔ہر جگہ اُن کے حقوق اور استحصال کی باتیں کی گئیں۔خواتین کی ترقی،آزادی اور بہتری کے حوالے سے بحث و مباحثے کیے گئے ۔اُن پر جاری ظُلم کی مذمت کی گئی ۔یہ اچھی بات ہے کہ آج اس حوالے سے معاشرے میں بیداری ہے ۔لیکن میں یہ بات سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ اس معاشرے کے مرد کا کیا قصور ہے ؟ اس کے حوالے سے نہ تو کوئی بات کی جاتی ہے نہ ہی بات کرنا ضروری سمجھا جا تا ہے ۔


جس طرح کئی مقامات پر عورت کا استحصال کیا جا تا ہے اسی طرح مرد بھی مسائل کا شکار ہے

لیکن چو نکہ یہ بات ازبر کر لی گئی ہے کہ یہ معاشرہ مرد کا ہے وہ طاقتور ہے لٰہذا مردوں کو کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہو تا ۔حالانکہ یہ تصویر کا ایک رُخ ہے ۔تصویر کے دوسرے رُخ پر مرد آپ کو انتہائی مجبور اور بے بس نظر آئے گا اگر تعصب کی عینک اُتار کر دیکھیں ۔جب کسی گھر میں کو ئی بچہ پیدا ہو تا ہے تو اُسی لمحے اس کے مستقبل کا فیصلہ کر دیا جا تا ہے ۔اُس کے حوالے سے ساری منصوبہ بندی کر دی جا تی ہے کہ بہنوں کی شادی ،بُڑھاپے کا سہارا ،گھر کی ذمہ داری غیر محسوس طریقے سے اس کے کاندھوں پر لاد دی جا تی ہے ۔اکثرو بیشتر یہ کہا جا تا ہے کہ والدین ایک ہی گھر میں بچوں کے ساتھ انصاف نہیں کرتے لڑکوں  کو اچھا کھانا ،لباس دیتے ہیں لڑکیوں کو بعد از لڑکوں کے پو چھا جا تا ہے۔

کہا جا تا ہے کہ خواتین کے حقوق کی پامالی گھر سے ہی شروع ہو جا تی ہے یہ بات کسی حد تک دُرست ہے لیکن یقین جا نیے جس طرح قربانی سے پہلے کسی جانور کی خاطر مدارت کی جا تی ہے بالکل ایسے ہی یہ معاملہ لڑکوں کے ساتھ ہو تا ہے ۔یہ ہی لڑکا جوان ہو کر جب کمانے لائق ہوتا ہے تو اُسے اپنی ذمہ داریاں ازبر ہو چُکی ہو تی ہیں ۔گھر کا خر چہ ،بہنوں کی شادی ، بو ڑھے ماں با پ کی دوائی سے لے کر پڑھا ئی کے اخراجات سب اُسے ہی پورا کرنا ہو تا ہے ۔ساری جو انی اسی اندیشے اور فکر میں نکلتی ہے کہ یہ سب کیسے پو را ہو گا ۔ساری توانائیاں اس ایک بات پر صرف ہو جا تی ہیں کہ آمدن کو کیسے بڑھا یا جا ئے ؟ رو زانہ گھر سے نئی پریشانیاں لے کر نکلنے والا یہ مرد ،سارے دن کام اور با س کی جھڑکیاں سُننے کے بعد شام کو جب گھر پہنچتا ہے تو وہ شکوہ کرنے کے قابل بھی نہیں ہوتا ۔عُمر کا ایک دور اسی ذمہ داریوں میں گزر جا تا ہے ۔ یہ ذمہ داریاں ختم ہو تے ہی شادی کی صورت میں نئی ذمہ داری اس کے کاندھوں ہر آجاتی ہے ۔

بہنوں کی شادی اور جہیز پر لاکھوں خرچ کرنے والا مرد اپنی شادی پر ڈھیروں ارمان ہو نے کے باوجود سادگی کو ترجیح دیتا ہے کہ پچھلا قرضہ ابھی اُترا نہیں ۔

شادی کی صورت میں بھی ایک عورت کی ذمہ داری اس کی ڈیو ٹی قرار پا تی ہے ۔جس کا کھانا پینا سے لے کر کپڑے جو تے سب مرد پر فرض ہو جا تا ہے ۔پھر بچے اُن کی تعلیم ،علاج معالجہ ،لباس وغیرہ یہ بھی مرد ہی کا فرض ہے ۔مزے کی بات یہ کہ اس میں کہیں کو ئی کمی بیشی رہ جا ئے تو بھی قصور وار صرف اور صرف مرد قرار پا تا ہے ۔

پھر یہ ہی مرد بو ڑھا ہو جا تا ہے اور یہ تمام ذمہ داریاں اُس کے جوان بیٹے کے مضبو ط کا ندھوں پر مُنتقل ہو جا تی ہیں ۔اس معاشرے کے بچارےمردکی ساری زندگی ماں باپ ،بہن بھائی،بیوی بچوں کے حقوق کی ادائیگی کے گرد گھومتی رہتی ہے ۔ان ادائیگیوں کی ذرا سی بھی کوتاہی میں وہ نہ صرف نکما،نکھٹو بلکہ ظالم بھی کہلاتا ہے ۔ اس کے برعکس عورت فا ئدے میں رہ جا تی ہے اگر خدمت گزار ہو تو دُنیا تعریف کرتی ہے کہ دیکھو کیسا خوش نصیب مرد ہے کہ ایسی عورت ملی اور اگر خدمت گزار نہ تو کہا جا تا ہے کہ یہ اُس کی ذمہ داری نہیں ہے مرد کا کام ہے کہ وہ کہیں سے بھی پو را کرے کام کرنے والیاں رکھ لے۔جبکہ مرد کے ذمہ دار ہو نے پر تعریف کے بجائے کہا جا تا ہے یہ تو اس کا کام ہے اور نہ ہی عورت کے لیے کہا جا تا ہے کہ تو خوش نصیب ہے کہ ایسا مرد ملا۔

دُنیا میں اور ایسے کئی لاتعدا د شُعبے اور معمولاتِ زندگی ہیں جن میں عورتوں کو ہر جگہ اولیت دی جا تی ہے اور مردوں کو پیچھے رکھا جا تا ہے ۔"لیڈیزفرسٹ"کی اصطلاح سے خواتین ڈھیروں فا ئدے اُٹھاتی ہیں۔

لیکن مرد بچا رے کہاں جا ئیں ؟ کس سے فریا د کریں ؟ ہمارا تو بس اتنا سا مطالبہ ہے کہ خواتین کی طرح مردوں کا بھی عالمی دن منایا جا ئے جس میں اُن کی بلامعاوضہ خدمات کی تعریف کی جا ئے اور اُن کی حوصلہ افزائی کی جا ئے۔

سہیل رضا تبسم کراچی کی نجی یونیورسٹی میں لکچرار ہیں،اردو میں کالم اور بلاگ بھی لکھتے ہیں   

انکا ای میل sohail_tabbassum@hotmail.com