'افغانستان میں فورسز کی تعداد بڑھانے سے امن کی توقع نہیں کی جا سکتی ہے'

'افغانستان میں فورسز کی تعداد بڑھانے سے امن کی توقع نہیں کی جا سکتی ہے'

نیو یارک: امریکا میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے پاکستان سے تعاون حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے سلامتی کونسل میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ اشرف غنی کی طالبان کو غیر مشروط مذاکرات کی پیشکش کو ضائع نہیں کرنا چاہیے اور افغانستان میں فریقین پرامن تصفیے کیلئے مذاکرات کریں۔ فورسز کی تعداد بڑھانے سے امن کے قیام کی توقع نہیں کی جا سکتی ہے۔


ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی لہرختم کر دی جبکہ کابل اور طالبان کو سمجھ جانا چاہیے کہ دوسرے پر فوجی برتری مسلط نہیں کی جا سکتی۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ شمالی کوریا کے صدر سے ملاقات کیلئے رضا مند

ان کا مزید کہنا تھا کہ دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے پاکستان سے تعاون حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ افغان سفیر کے الزامات مسترد کرتے ہیں اور اب پراپیگنڈا مہم بند ہونی چاہیے۔

گزشتہ روز سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات طویل المدتی ہیں اور ہمیں امریکا کے ساتھ بات چیت میں تمام ایشوز پر بات کرنا چاہیے۔ پاکستان اور امریکا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیاب شراکت دار ہیں اور دونوں ملکوں نے مشترکہ کوششوں سے القاعدہ کا خاتمہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ملا فضل اللہ،عبدالولی اور منگل باغ کے سروں کی قیمت مقرر 

اس موقع پر سیکریٹری خارجہ نے افغانستان کے مسئلے پر بھی بات کی اور کہا کہ ہم نے افغانستان کو 5 ورکنگ گروپس کی تجویز دی ہے۔ یہ ورکنگ گروپ آپریشنل ہو جائیں تو تمام ایشوز پر مستقل بات چیت ہوتی رہے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ورکنگ گروپس تشکیل دیئے تو اس سے بات چیت کا اسٹرکچر بن جائے گا جبکہ ملٹری اور انٹیلی جنس سمیت مختلف شعبوں کی سطح پر بات چیت ہو گی۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں