میں اب اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتی ہوں ،نورین لغاری

میں اب اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتی ہوں ،نورین لغاری

حیدر آباد : داعشکے ساتھ تعلق کے بعد لاہور سے  گرفتار ہونے والی نورین لغاری کا کہنا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر داعش کے پیجز دیکھ کر اس تنظیم سے متاثر ہوئی اور انفرادی طور پر دہشتگردوں سے رابطے میں آئی ۔ وہ کبھی شام نہیں گئی اور نہ ہی خود کش حملہ کرنا چاہتی تھی بلکہ دہشتگرد اسے خود کش حملے کیلئے مجبور کر رہے تھے۔ اب دہشتگردوں کے چنگل سے چھوٹنے کے بعد وہ لوگوں کو اس کریہہ فعل سے دور رہنے کی ترغیب دے گی اور یہی اس کا جہاد ہوگا۔


نورین لغاری نے بتایا کہ اس نے فیس بک اور انسٹا گرام پر سوشل میڈیا پر پیجز دیکھے اور وہیں سے اسے داعش کی طرف رغبت ہوئی ، اس نے ان پیجز سے دیکھ کر سمجھا کہ خلافت کا نفاذ ہونا چاہیے ۔ نورین لغاری نے بتایا کہ کالعدم تنظیم کے بندوں نے خود اس سے رابطہ کیا جس کے بعد میں نے انہیں بتایا کہ میں نے ہجرت کرنی ہے تو انہوں نے کہا کہ اس کیلئے مجھے لاہور آنا پڑے گا، جس کے بعد میں بذریعہ بس لاہور روانہ ہوئی ۔ انہوں نے مجھے دینی باتیں بتائیں جس کی وجہ سے میں نے سمجھا کہ وہ واقعی اصل لوگ ہیں ۔ نورین لغاری نے بتایا کہ داعش کے حوالے سے اس کی یونیورسٹی میں کسی ہم جماعت سے کوئی بات نہیں ہوئی بلکہ وہ انفرادی طور پر داعش سے وابستہ ہوئی تھے۔

نورین لغاری کا مزید کہناہے کہ مستقبل کے بارے میں اس نے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی تھی بلکہ وہ صرف ہجرت کرنا چاہتی تھی ۔ آگے کیا کرنا تھا وہ ہجرت کے بعد سوچنا تھا لیکن دہشتگرد اسے خود کش حملے کیلئے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ ’جب انہوں نے مجھے خود کش حملے کیلئے کہا تو یہ مجھے بڑی عجیب سی بات لگی کیونکہ میرا مقصد تو کچھ اور تھا لیکن یہ کسی اور مقصد کیلئے مجھے استعمال کرنا چاہتے تھے اس لیے اس عمل کی مخالفت کی۔‘

نورین نے بتایا کہ دہشتگردوں نے مجھے ٹریپ کیا ہوا تھا جس کی وجہ سے نکل نہیں سکتی تھی ، انہوں نے مجھے کہا کہ نعرہ تکبیر بلند کرو اور چرچ پر حملہ کردو کیونکہ یہ سب کرنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے مجھے کسی قسم کی ٹریننگ نہیں دی اور نہ ہی میں شام گئی بلکہ لاہور میں ہی تھی جہاں انہوں نے صرف جیکٹ کا استعمال سکھایا اور بتایا کہ کیسے پن کھینچنی ہے۔

نورین نے بتایا کہ دہشتگرد جہاد کے حوالے سے قرآن پاک کی آیات اور احادیث مبارکہ کی اپنے حساب سے تشریح کرکے نوجوانوں کو ورغلاتے ہیں۔ دہشتگردوں کے چنگل سے نکل آنے پر میں اللہ کی شکر گزار ہوں اور اب اپنی پڑھائی اسی یونیورسٹی سے دوبارہ شروع کروں گی اور لوگوں کو دہشتگردی سے دور رہنے کی ترغیب دوں گی کیونکہ اب یہی میرا مقصد حیات اور جہاد ہے۔