ایران نے انتہائی تیز رفتار بحری میزائل کا تجربہ کر لیا

ایران نے انتہائی تیز رفتار بحری میزائل کا تجربہ کر لیا

تہران:پاکستان کے ہمسایہ ملک ایران نے تیز ترین بحری میزائل کا تجربہ کرلیا ہے۔تفصیلات کے مطابق امریکہ کے دفاعی حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں تارپیڈو میزائل تجربہ کیا ہے اور یہ میزائل دو سو پچاس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے 6 میل تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


امریکی میڈیا کی جانب سے ابھی اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی ہے کہ ایرانی میزائل کا تجربہ کامیاب رہا ہے کہ نہیں جبکہ امریکی دفاعی حکام کی طرف سے ایرانی میزائل کے تجربے پر سخت ردعمل کا اظہار کیاگیاہے اور اسے خطے میں اشتعال انگیزی پھیلانے کے مترادف قراردیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران پر بیلسٹک میزائل تجربے کے بعد مختلف قسم کی پابندیاں لگا دی گئیں تھی۔ایرانی کے وزیرخارجہ نے 20 فروری2017 ءکو امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ دھمکیاں دینا بند کرے اور ایران ایسی دھمکیوں سے ڈرنے والا نہیں ہے. 

واضح رہے کہ گزشتہ روز ایرانی فوج کے سربراہ نے پاکستان کو وارننگ دی تھی  کہ تہران پاکستان کے اندر موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائے گا اگر پاکستانی حکومت نے سنی دہشت گردوں کے خلاف کاروائی نہ کی۔ یاد رہے گزشتہ مہینے میں ایران کے دس سرحدی گارڈ دہشت گردوں کے حملے میں مارے گئے تھے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جیش العدل نامی گروپ نے ایرانی سرحد گارڈ کو دور تک مار کرنے والے ہتھیاروں سے نشانہ بنایا اور یہ حملے پاکستانی  حدود سے کئے گئے تھے۔ 

رائٹرز کے مطابق جنرل باقری کا کہنا ہے کہ اگر یہ حملے جاری رہے تو پھر ہم ان کے محفوظ ٹھکانوں کو نشانہ بنائیں گئے چاہے وہ جہاں کہیں بھی ہوں۔ایرانی کے وزیر خارجہ نے گزشتہ ہفتے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کے دوران مطالبہ کیا تھا کہ پاکستان اپنی سرحد کو محفوظ بنائے جس پر پاکستان نے ایران کو یقین دلویا تھا کہ پاکستان ایران کے ساتھ سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے مزید فوج تعینات کرے گا۔

عالمی مبصرین کے مطابق خدشہ ہے کہ اتنے کشیدہ حالات میں اس میزائل کے تجربے کی وجہ سے کہیں خطےمیں صورت حال مزید کشیدہ نہ ہو جائے ۔