پاکستان اور افغانستان کا سرحدی حدود کے تعین کے لیے گوگل نقشوں کی مدد لینے کا فیصلہ

پاکستان اور افغانستان کا سرحدی حدود کے تعین کے لیے گوگل نقشوں کی مدد لینے کا فیصلہ

اسلام آباد: پاکستان اور افغانستان کے اعلیٰ حکام نے سرحدوں کے درست تعین کے لیے گوگل نقشوں کی مدد لینے کا فیصلہ کر لیا اور اسکے تعین کے بعد دونوں طرف کی عوام کو بھی بتایا جائے گا کہ سرحد کی حدود کہاں تک واقع ہے۔ اس وجہ سے دونوں میں ملکوں میں شدید نوعیت کی جھڑپیں ہو چکی ہیں۔


یاد رہے گذشتہ دنوں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والی سرحدی جھڑپوں میں دونوں سے شہریوں جاں بحق ہو گئے تھے۔یہ جھڑپیں اُس وقت ہوئیں جب پاکستان کی مردم شماری ٹیم کے ارکان سرحدی علاقے میں سروے کر رہے تھے تو افغانستان کی طرف سے اُن کو نشانہ بنایا جائے لگا جس کے نتیجے میں پاکستان کی طرف سے بے گناہ شہری شہید ہو گئے تھے۔ اس کے بعد پاکستان نے افغانستان کی سرحدی چوکیوں کو نشانہ بنایا جس کے 50افغان فوجی مارے گئے جبکہ افغان ترجمان نے پچاس ہلاکتوں سے انکار کیا اور کہا کہ ہمارے صرف دو فوجی مارے گئے۔

ایک پاکستانی اہلکار کے مطابق دونوں ملکوں کے جیولوجیکل ٹیمیں سرحد کا تعین کے لیے گوکل نقشوں کی مدد بھی لیں گی،دوسری طرف قندھار کے پولیس چیف کے بیان کے مطابق دونوں طرف کے حکام نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ سرحد کے تعین کے لیے تمام طریقوں کو برکار لایا جائے گا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں