بھارتی وزارت خارجہ کا عظمیٰ کی واپسی کیلئے پاکستانی وزارت خارجہ سے رابطہ

بھارتی وزارت خارجہ کا عظمیٰ کی واپسی کیلئے پاکستانی وزارت خارجہ سے رابطہ

اسلام آباد: طاہر اور عظمیٰ کے معاملے میں پاک بھارت حکومتیں بھی شامل ہو گئیں۔ بھارتی وزارت خارجہ نے عظمی ٰکی واپسی کے لیے پاکستانی وزارت خارجہ سے باضابطہ رابطہ کیا اور بھارتی شہری عظمٰی کو جلد بحفاظت واپس بھیجنے کا مطالبہ بھی کر دیا۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے جواب دیا ہے کہ معاملہ حساس ہے قانون کے مطابق معاونت فراہم کریں گے جبکہ عظمٰی کی واپسی قانونی مراحل پورے ہونے پر ہی ممکن ہو سکے گی۔


ادھر ڈاکٹر عظمیٰ کے بارے میں انکشافات کا سلسلہ جاری ہے نکاح کی ویڈیو منظر عام پر آنے پر جہاں ہنگامہ برپا ہوا تو واٹس ایپ میسجز نے بھی کہانی کے کئی راز فاش کیے۔ اب ڈاکٹر عظمیٰ کی چار سالہ بچی کی تصاویر منظرعام پر آئی ہیں۔ ان تصاویر نے بھارتی ناری عظمیٰ کے بارے میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ خود بھی پہلے سے شادی شد ہ ہیں۔

 

یاد رہے گزشتہ روز اسلام آباد کی مقامی عدالت میں بھارتی شہری ڈاکٹر عظمیٰ نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان رکارڈ کرایا تھا جس میں اس کا کا کہنا تھا میں پاکستان میں شادی کرنے نہیں آئی تھی لیکن میری گن پوائنٹ پر شادی کرائی گئی۔ مجھ سے تمام سامان واپس لے لیا گیا اور ہراساں کرنے کے ساتھ زیادتی کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

عظمیٰ نے اپنے بیان میں پاکستانی شوہر طاہر علی پر پہلے سے شادی شدہ ہونے کا الزام لگایا کہ اس کے گھر میں موجود بچے طاہر کو ابو کہہ کر پکار رہے تھے۔ ڈاکٹر عظمیٰ نے کہا میں بھارتی ہائی کمیشن سے باہر نہیں جانا چاہتی اور جب تک بحفاظت واپس نہیں چلی جاتی ہائی کمیشن میں رہوں گی۔

اس سے قبل بونیر کے طاہر علی نے دعویٰ کیا تھا کہ ڈاکٹر عظمیٰ اس کے ویزے کیلئے درخواست دینے بھارتی ہائی کمیشن گئی تو اسے واپس نہ آنے دیا گیا اور اسے ہائی کمیشن والوں نے کوئی تسلی بخش جواب دیے بغیر بھیج دیا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں