فیئر پرائس شاپ کے قیام کیلئے 350ملین روپے کی سبسڈی دی جائے گی

فیئر پرائس شاپ کے قیام کیلئے 350ملین روپے کی سبسڈی دی جائے گی

لاہور :  صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات اور کنوینررمضان پیکج ملک ندیم کامران نے کہا ہے کہ رمضان بازار وں میں قائم کی جارہی ایگریکلچرل فیئر پرائس شاپس پر عوا م کو معیاری اشیائے ضروریہ کی ارزاں نرخوں پر فراہمی کیلئے 350ملین روپے کی سبسڈی فراہم کی جائے گی اور ان شاپس پر پر دال چنا ، بیسن ، کیلا،کھجور اور سیب بازار سے 20روپے کلو تک سستے دستیاب ہونگے جبکہ سبزیوں ، چاول ، لیموں سمیت 12اشیاء خورو نوش کی ہول سیل نرخوں پر فراہمی کیلئے انتظامات کئے جارہے ہیں ۔


انہوں نے کہا کہ رمضا ن بازاروں میں عوام کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی اور اس حوالے سے فنڈ ز کی کوئی کمی نہیں ۔انہوں نے یہ بات یہاں سول سیکرٹریٹ میں رمضان پیکج2017ء کے انتظامات کے حوالے سے بلائے گئے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی اس موقع پر ایڈ یشنل چیف سیکرٹری شمائل احمد خواجہ، سیکرٹری انڈسٹریز ، محکمہ ا یگلریکلچرل او ر پولیس کی سپیشل برانچ کے اعلیٰ افسران بھی موجودتھے ۔ صوبائی وزیر نے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنر ز کو ہدایت کی کہ رمضان بازاروں کی تعداد اور فزیبلٹی کا دوبارہ جائزہ لیا جائے اور بازار قائم کرنے کیلئے ایسی جگہوں کا انتخاب کیا جائے جہاں عوام کو آمدورفت میں کسی دشواری کاسامنا نہ کرنا پڑے ۔ انہوں نے صوبہ بھر کے انتظامی افسران پر زور دیا کہ جگہوں کا انتخاب کرتے ہوئے علاقے کے ارکان پارلیمنٹ اور بلدیاتی نمائندوں کو بھی اعتماد میں لیاجائے اور ان کی مشاورت کے بغیر رمضان بازاروں کی تعداد کم یازیادہ نہ کی جائے ۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ رمضان بازاروں کے حوالے سے کیبنٹ کمیٹی کی طرف سے جاری کردہ ایس او پی پر ہرصورت عملدآمد یقینی بنایا جائے۔انہوں نے ڈویژنل افسران کی درخواست پر ہر ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں ایک ایک مارکی لگانے کی اجازت بھی دی ۔ اجلاس میں رمضان بازاروں میں رعایتی نرخوں پر آ ٹا فراہم کرنے کیلئے آٹے کے تھیلوں کے 2ڈیزائن فائنل کئے گئے جو حتمی منظوری کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب کو بھجوائے جائینگے۔ ملک ندیم کامران نے کہا کہ تمام کمشنرصاحبان رمضان بازاروں میں اشیاء خورونوش کی وافر مقدار میں فراہمی یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں۔انہوں نے فیصل آباد اور سرگودھا میں دالوں کی ذخیرہ اندوزی روکنے کیلئے خصوصی ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ ا شیاء خورو نوش اور اجناس کے تمام سٹاکسٹس اپنے سٹاک ظاہر کریں ، ڈکلیئر کردہ سٹاک کے علاوہ ذخیرہ کی جانیوالی اجناس کو ذخیرہ اندوز ی تصورکرتے ہوئے سخت کارروائی کی جائے گی ۔