بیلجیم میں جانوروں کے حلال ذبح پر پابندی عائد

برسلز: بیلجیم کے جنوبی علاقے والونیا کی حکومت نے یہودیوں کے کوشر اور مسلمانوں کے حلال طریقے سے جانور ذبح کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ والونیا کی پارلیمنٹ میں اس پابندی کے حوالے سے ایک قرار داد پیش کی گئی، جسے ماحولیاتی کمیٹی کی طرف سے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

بیلجیم میں جانوروں کے حلال ذبح پر پابندی عائد

برسلز: بیلجیم کے جنوبی علاقے والونیا کی حکومت نے یہودیوں کے کوشر اور مسلمانوں کے حلال طریقے سے جانور ذبح کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ والونیا کی پارلیمنٹ میں اس پابندی کے حوالے سے ایک قرار داد پیش کی گئی، جسے ماحولیاتی کمیٹی کی طرف سے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔


بیلجیم کے مقامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق کوشر اور حلال ذبح پر پابندی کے حوالے سے یہ قانون جنوری 2019ءمیں بیلجیم کے فلیمش علاقے میں نافذ العمل ہو جائے گا۔ بیلجیم کی مسلم کمیونٹی کی مذہبی کونسل کے مطابق وہ اس حوالے سے پہلے ہی اپنی پوزیشن واضح کر چکے ہیں اور اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ قبل ازیں اس مسلم تنظیم نے اس حوالے سے شدید پریشانی کا اظہار کیا تھا کہ مسلمانوں کو اپنے عقیدے کے مطابق حلال ذبح کرنے سے روکا جا رہا ہے۔دوسری جانب یورپی یہودی کانگریس نے اس فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ای جے سی کے صدر کا اس حوالے سے کہنا تھا، ”مغربی یورپ کے دل اور یورپی یونین کے وسط میں کیا جانے والا یہ فیصلہ یہودی کمیونٹی کے لیے ایک خوفناک پیغام ہے اور وہ یہ ہے کہ ہمارے براعظم میں یہودی ناپسندیدہ ہیں۔“

واضح رہے کہ مسلمانوں اور یہودیوں میں جانور کو ذبح کرنے کا طریقہ عملاً بالکل یکساں ہے جس کے پہلے مرحلے میں کسی جانوروں کا گلا کاٹ کر کچھ دیر کیلئے چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ اس کے جسم سے زیادہ سے زیادہ خون بہہ جائے۔ اس موقعے پر مسلمان ”اللہ اکبر“ کی صدا بلند کرتے ہیں جبکہ یہودی اپنے مذہبی کلمات ادا کرتے ہیں۔ جبکہ کئی ممالک میں ”جانوروں سے ہمدردی“ کے نام پر پہلے ہی سے کوشر اور حلال ذبح پر پابندی عائد ہے جن میں جرمنی، ڈنمارک، سوئٹزرلینڈ اور نیوزی لینڈ بطورِ خاص قابلِ ذکر ہیں۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں