کچرے سے کروڑ پتی بننے کی انوکھی داستان

کچرے سے کروڑ پتی بننے کی انوکھی داستان
فوٹو بشکریہ یاہو

منی پور: بھارتی ریاست منی پور میں باپ بیٹا پلاسٹک کچرے کی ری سائیکلنگ سے کروڑوں کے مالک بن بیٹھے، منی پور میں پلاسٹک کی 120اقسام میں سے 30قسمیں ری سائیکل کی جاتی ہیں۔


بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست منی پور کے دارالحکومت امپھال میں باپ بیٹے کی محنت رنگ لائی۔ ابتدا میں انہوں نے لوگوں کے گھروں اور دکانوں سے پلاسٹک کچرا جمع کرکے ری سائیکلنگ کا کام شروع کیا۔ امپھال کے رہنے والے سافٹ ویئر انجینیئر سڈوکپم ایتومبی نے اپنے والد سڈوکپم گونا کانتا کے تعاون سے ری سائیکلنگ فیکٹری قائم کی جہاں بڑے پیمانے پر پلاسٹک کے کچروں کو مختلف مراحل سے گزار کر استعمال کے قابل بنایا جاتا ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں: حنا پرویز بٹ نے مریم نواز کی نواسی کے ہمراہ تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کر دی

 ایتومبی کا کہنا ہے کہ پلاسٹک سے فضائی آلودگی پیدا ہوتی ہے۔ یہ انسانوں، جانوروں اور پیڑ پودوں کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے لہذا والد کے مشورے سے پلاسٹک کچرے کی ری سائیکلنگ کیلئے فیکٹری قائم کی تاکہ شہر کو فضائی آلودگی سے پاک اور صاف ستھرا بنایا جاسکے۔ ایتومبی نے 2007 میں ایس جے پلاسٹک انڈسٹریز کے نام سے کمپنی قائم کی۔ بازاروں، گھروں اور قرب جوار سے پلاسٹک کے کچرے خرید کر ری سائیکلنگ کا کام شروع کیا۔ 2010 میں جدید مشینیں نصب کی گئیں جہاں ری سائیکل شدہ پلاسٹک کے کچرے کی مدد سے پائپ، ٹب، بوتلیں اور دیگر اشیا تیار کی جانے لگیں جو کروڑوں کی آمدنی کا ذریعہ بن گئیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں: محکمہ موسمیات کی اگلے ایک ہفتے تک گرمی میں توازن برقرار رہنے کی پیش گوئی

 نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں