سپریم کورٹ کا کراچی سرکلر ریلوے کو ایک ماہ میں چلانے کا حکم

سپریم کورٹ کا کراچی سرکلر ریلوے کو ایک ماہ میں چلانے کا حکم
ریلوے کی زمین خالی کرانے کے لیے 2 ہفتوں سے زیادہ کی مہلت نہیں دیں گے، جسٹس گلزار احمد۔۔۔۔۔۔فوٹو/ بشکریہ سوشل میڈیا

کراچی: سپریم کورٹ نے کراچی میں ریلوے کی زمین سے تجاوزات 15 دن میں ہٹانے اور سرکلر ریلوے ایک ماہ میں چلانے کا حکم دیا ہے۔


سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سرکلر ریلوے اور لوکل ریلوے کی بحالی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے آغاز پر سیکرٹری ریلوے نے عدالت کو بتایا کہ 10 ایکڑ زمین قابضین سے خالی کرا لی گئی ہے۔ مزید زمین خالی کرا کے سندھ حکومت کے حوالے کر دیں گے۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ریلوے کی زمین خالی کرانے کے لیے 2 ہفتوں سے زیادہ کی مہلت نہیں دیں گے جبکہ ایک ماہ میں سرکلر اور لوکل ٹرین چلائیں جہاں سے بھی لے کر آئیں۔

جسٹس گلزار احمد نے سیکرٹری ریلوے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ اس حال میں سو کیسے سکتے ہیں۔ کبھی شہر کا دورہ کیا ہے۔ بگھی پر بیٹھ کر جائیں اور جتنی زمین پر تجاوزات ہیں اسے خالی کرائیں۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ جن لوگوں نے تجاوزات قائم کی ہیں ان کے پاس ہر قسم کا اسلحہ ہے اور ہمارے پاس فوج ہے، رینجرز ہے انہیں استعمال کریں گے۔

جسٹس گلزار احمد نے سیکرٹری ریلوے کو کہا آپ کا ایک ڈی ایس بھاگ گیا جس نے زمین خالی کرانے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

عدالت نے ہدایت کی کہ ریلوے کے متاثرین کو وفاق، سندھ حکومت اور میئر کراچی متبادل جگہ فراہم کریں۔