ٹرمپ نے چین پر تجارتی معاہدہ توڑنے کا الزام لگا دیا

 ٹرمپ نے چین پر تجارتی معاہدہ توڑنے کا الزام لگا دیا
2018 میں امریکا نے چین کی اشیاء پر 250 ارب ڈالر کے ٹیکس عائد کئے تھے۔۔۔۔۔۔۔فوٹو/ ٹرمپ آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر تجارتی معاہدہ توڑنے کا الزام عائد کر دیا۔ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان چین کے بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا اگر امریکا نے چینی اشیاء پر ٹیکس عائد کیے تو اس کے جواب میں ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔


ٹرمپ نے جمعے کو 200 ارب روپے کی چینی اشیاء پر ڈبل سے زیادہ ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

ایک طرف دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کی اشیاء پر ٹیکس عائد کرنے کے بیانات داغے جا رہے ہیں جب کہ دوسری جانب دونوں ممالک کے درمیان امریکا میں تجارتی مذاکرات بھی جاری ہیں۔

امریکا میں چین کے وفد کی سربراہی نائب وزیراعظم لیو ہی کر رہے ہیں جنہیں چین میں ایک طاقتور عہیدار کے طور پر جانا جاتا ہے۔

چینی حکام سے مذاکرات سے قبل امریکی صدر نے بیجنگ پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا وہ ایسا نہیں کر سکتے تھے اب انہیں اس کی قیمت چکانا ہو گی۔

یاد رہے کہ 2018 میں امریکا نے چین کی اشیاء پر 250 ارب ڈالر کے ٹیکس عائد کئے جس کے جواب میں چین نے بھی امریکی اشیاء پر 110 ارب ڈالر کے ٹیکس نافذ کیے۔