ترکی میں بغاوت و قتل کے الزام میں ڈیڑھ سو فوجیوں کا ٹرائل شروع

ترکی میں بغاوت و قتل کے الزام میں ڈیڑھ سو فوجیوں کا ٹرائل شروع

انقرہ:اسلامی دنیا کے اہم ترین ملک نےبغاوت کرنے والے فوجیوں کو نشانہ عبرت بنا دیا،ترکی میں فوجی بغاوت اور قتل کے الزامات میں ڈیڑھ سو سابق فوجیوں کا ٹرائل شروع کردیا گیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترکی کی عدالت میں 30 افسروں سمیت 143 سابق فوجی پیش ہوئے جن پر بغاوت اور قتل کی فرد جرم عائد کردی گئی۔


جرم ثابت ہونے کی صورت میں انہیں عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ گزشتہ ہفتے ہی ترکی کی ایک عدالت نے اردوان کو قتل کے کرنے کی کوشش کرنے پر 40 افراد کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔گزشتہ سال 15 جولائی کو ترک صدر رجب طیب اردوان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کے دوران فوجی اہلکاروں اور سیاسی کارکنوں میں جھڑپوں ہوئیں تھیں۔

جن میں 34 کارکن اور 7 فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ فوجیوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے افراد میں صدر اردوان کی انتخابی مہم کے مینیجر ایرول اولک اور ان کا 16 سالہ بیٹا عبداللہ طیب بھی شامل تھے۔