نیب نے شہباز شریف کے آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات کا بھی آغاز کر دیا

 نیب نے شہباز شریف کے آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات کا بھی آغاز کر دیا
شہباز شریف 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں ہیں۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

لاہور: قومی احتساب بیورو (نیب) نے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے معاملے پر بھی تحقیقات کا آغاز کر دیا۔


خیال رہے کہ نیب پنجاب میں آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم، صاف پانی کیس، اور اربوں روپے کے گھپلوں کی تحقیقات کر رہا ہے جس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سمیت دیگر نامزد ہیں۔

نیب لاہور نے 5 اکتوبر کو سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو صاف پانی کیس میں طلب کیا تھا تاہم اُن کی پیشی پر انہیں آشیانہ اقبال ہاؤسنگ کیس میں کرپشن کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا۔

آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے سابق ڈائریکٹر جنرل احد چیمہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے قریبی ساتھی اور سابق پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد پہلے ہی گرفتار کیے جا چکے ہیں اور نیب ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ شہباز شریف کو فواد حسن فواد کے بیان کے بعد گرفتار کیا گیا۔

انہیں اگلے روز لاہور کی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا جس کے بعد عدالت نے شہباز شریف کو 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا تھا۔

ذرائع کے مطابق نیب کی تفتیشی ٹیم نے شہباز شریف سے آمدن سے زائد اثاثوں کی پوچھ گچھ کی اور ان کے انکشافات کی روشنی میں ان کے بچوں کو بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ نیب نے شہباز شریف کے صاحبزادے سلمان شہباز کو بھی کل 10 اکتوبر کو طلب کر رکھا ہے۔

ذرائع کے مطابق سلمان شہباز کے مختلف بینک اکاؤنٹس میں مختلف ٹرانزیکشن ہوئیں جس کی بناء پر انہیں کل ابتدائی بیان قلمبند کرانے کے لیے طلب کیا گیا ہے۔

نیب ذرائع کے مطابق شہباز شریف کے بیٹے اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کو بھی جلد طلب کیے جانے کا امکان ہے۔