مجھے فوج سے مسئلہ نہیں، بے روز گار سیاستدان قانون کی بالادستی کو نہیں مانتے، وزیراعظم

مجھے فوج سے مسئلہ نہیں، بے روز گار سیاستدان قانون کی بالادستی کو نہیں مانتے، وزیراعظم
آج کل تمام بے روزگار سیاستدان اکٹھے ہو گئے ہیں، وزیراعظم عمران خان۔۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے انصاف لائرز فورم کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم کے نظریے پر ہی چل کر ملک کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے اور کفر کا نظام چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نظام نہیں چل سکتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن سے پہلے مدینہ کی ریاست کی بات نہیں کی تھی کیونکہ نہیں چاہتا تھا کوئی سمجھے کہ ووٹ لینے کیلئے ریاست مدینہ کی بات کی ہے جبکہ ریاست مدینہ کی بنیاد قانون کی بالادستی تھی اور مدینہ کی ریاست میں کوئی قانون سے بالاتر نہیں تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے پاکستانی فوج سے کوئی مسئلہ نہیں اور میری کوئی دولت بیرون ملک نہیں اور آئی ایس آئی کو پتا ہے کہ میں کس طرح کی زندگی گزار رہا ہوں۔

وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آج کل تمام بے روزگار سیاستدان اکٹھے ہو گئے ہیں اور یہ سارے بے روز گار سیاستدان قانون کی بالادستی نہیں مانتے کیونکہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ کوئی ہمیں ہاتھ نہ لگائے اور یہ لوگ پاکستان کی سپریم کورٹ کو بھی نہیں مانتے عدالت فیصلہ دے تو کہتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان کا قانون ہمارے لیے نہیں ہے اور یہ چاہتے ہیں کہ چوری کریں لیکن کوئی ہاتھ نہ ڈالے تاہم میں ان کے دباؤ میں نہیں آؤں گا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ لوگ باہر کسی کی چوری بچانے کیلئے نہیں نکلتے یہ قیمے والے نان بھی کھلائیں پھر بھی لوگ نہیں نکلیں گے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ یہ دیکھیں کہ 30 سال پہلے ان کے پاس کیا تھا اور آج کیا ہے، اگر یہ کلاس سمجھتی ہے کہ سڑکوں میں نکل کر عمران خان کو بلیک میل کریں گے تو یہ سارے مل کر دو سال بھی جلسے کریں گے تو ہمارا ایک جلسہ ان سے زیادہ تھا۔

انہوں نے نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خود لندن بیٹھا ہوا ہے اور لوگوں کو کہتا ہے باہر نکلو اور ان کے ایک ترجمان نے نواز شریف کو آیت اللہ خمینی بنا دیا شاید اس کو پتہ نہیں کہ آیت اللہ خمینی کو بندوق کی نوک پر باہر بھیجا گیا تھا اور آیت اللہ خمینی کی بیرون ملک جائیدادیں بھی نہیں تھیں۔ آیت اللہ خمینی کی بیٹی کی بیرون ملک جائیدادیں نہیں تھیں لیکن یہ لوگ  یہاں سے تو منتیں کرکے باہر گئے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف کرپشن کر کے ملک سے بھاگا ہوا ہے اور نواز شریف ایک گھر کی منی ٹریل نہیں دے سکا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ تین دفعہ کا وزیراعظم اپنی جائیداد سے متعلق ایک مصدقہ دستاویز نہیں دکھا سکا کہ یہ اربوں روپے باہر کیسے گئے اگر میں ایک کرکٹر ہو کر 40 سال پہلے کا معاہدہ عدالت کو دکھا سکتا ہوں لیکن وہ ایک دستاویز نہیں دکھا سکا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے لوگوں کو شرم نہیں آتی کہ ایک غریب ملک سے پیسہ باہر لے کر گیا اور میں نے سوچا کہ کوئی اتنا بڑا ڈفر ہو گا اور وہ سمجھے گا کہ واقعی وہ ایمان دار ہے لیکن پھر چند دن پہلے میں نے دیکھا کہ ان کا ایک سینیئر عہدیدار صبح کے 3 بجے ایک خاتون کے گھر تنظیم سازی کرنے چلا گیا۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کو بڑے مشکلوں سے نکالا اور شروع میں ڈیفالٹ سے بچے، کورونا سے نکلا، عالمی ادارہ صحت کہتا ہے کہ پاکستان دنیا میں ان چار ممالک میں شامل ہے جو کورونا سے نکلا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اس سے نکلے تو ڈاکووں کے اتحاد نے ہمیں ایف اے ٹی ایف کے قانون میں پھنسانے کی کوشش کی۔ اگر ایف اے ٹی ایف میں پھنس جاتے ہیں تو دیوالیہ ہو جائیں گے اور معیشت تباہ ہو جائے گی۔

اپوزیشن کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ این آر او لینے کے لیے ہمیں بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔ 

انہوں نے کہا کہ ادھر سے نکلے تو اب یہ گھبرائے ہیں کیونکہ اب پاکستان اوپر جا رہا ہے اور ساری دنیا میں مشکل حالات ہیں لیکن پاکستان میں پچھلے مہینے سیمنٹ کی فروخت پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پچھلے مہینے موٹرسائیکلوں کی فروخت بھی ریکارڈ ہوئی ہے جس کا مطلب ہے کہ ملک آگے نکل رہا ہے اور اہم بحران سے نکل رہے ہیں اور اس لیے انہیں حکومت تبدیل کرنے کی جلدی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ‘انہوں نے پاکستانی فوج پر جو حملے کیے اور زبان استعمال کی ہے اس پر ایک بات کہوں گا کہ اگر اس وقت کوئی بھارت کا ایجنڈا لے کر پھرتا ہے تو وہ یہ ہیں۔ پاکستانی فوج کے لیے جو زبان استعمال کر رہے ہیں یہ وہی ایجنڈا ہے جو ایف اے ٹی ایف کا ہے اور پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کے لیے بھارت پوری کوشش کر رہا ہے’۔

عمران خان نے کہا کہ ‘مجھے پاکستانی فوج سے کوئی مسئلہ کیوں نہیں ہے، کون سا ایسا کام ہے جس میں فوج نے ہمارے منشور پر عمل نہیں کیا’۔

وزیراعظم نے کہا کہ ‘یہ وہی ایجنڈا ہے کہ پاکستانی فوج کمزور ہوتی ہے تو پھر خود دیکھیں کہ مسلم دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ لیبیا، شام، عراق اور افغانستان میں کیا ہوا، صومالیہ اور یمن میں کیا ہو رہا ہے اور پوری مسلمان دنیا میں آگ لگی ہوئی ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی جو جنگ چلی اس کے باوجود آج ہم ان کی قربانیوں کی وجہ سے محفوظ ہیں اور یہ پاکستانی فوج کے اوپر جو انگلیاں اٹھا رہے ہیں ان سے سوال ہے کہ مجھے کوئی مسئلہ کیوں نہیں ہے۔ 

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی فوج حکومت کے ایجنڈے پر ہر جگہ کھڑی ہے اورکون سا ایسا منشور ہے جس میں ہماری فوج نے مدد نہیں کی بلکہ جہاں فوج نہیں کرتی جیسے کورونا میں ہماری مدد کی۔ فوج نے کراچی میں مدد کی اور نالوں میں کام کی وجہ سے کراچی بچ گیا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ یہ ہے کہ اگر آج عمران خان پیسہ بنانا شروع کر دے اور اگر میں یہاں سے پیسہ چوری کر کے باہر لے جاوں تو سب سے پہلے ہماری آئی ایس آئی کو پتہ چلے گا کیونکہ آئی ایس آئی دنیا کی ٹاپ ایجنسی ہے اور لوگ اس کو مانتے ہیںڈ

انہوں نے کہا کہ ان کو اس لیے مسئلہ ہے کہ باقی اداروں کو کنٹرول کر کے بیٹھ جاتے ہیں سچر سپریم کورٹ میں جسٹس کھوسہ نے کہا کہ تمام ادارے مفلوج کر دیے گئے ہیں اور کوئی ادارہ آزادانہ کام نہیں کر رہا ہےڈ 

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی کو ان کی ساری چوری کا پتہ ہے اور ادھر آ کر لڑائی ہوتی ہے، اس لیے نواز شریف کی ہر آرمی چیف سے لڑائی ہو جاتی ہے کیونکہ وہ اس کو پنجاب پولیس بنانا چاہتا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ کیونکہ فوج کو جب سب پتہ چل جاتا ہے تو ان کو بتاتے ہیں اس لیے ڈر ہے، نواز شریف نے کہا کہ آئی ایس آئی کے جنرل ظہیرالاسلام نے استعفے کا کہا تو کیوں کہا اور تم نے چپ کے کیوں سنا کیونکہ ظہیرالاسلام کو پتہ تھا کہ تم نے کتنا پیسہ چوری کیا ہوا ہے۔