کلبھو شن یادیو کو سزائے موت دینے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں،سیاسی رہنما و تجزیہ کار

اسلام آباد :پاکستان کی جانب سے بھارتی جاسوس کلبھو شن یادیو کو سزائے موت دینے کے فیصلے کے بعد سیاسی رہنمائوں اور سینئر تجزیہ کاروں نے اس قدام کا خیر مقدم کیا ہے۔سابق وزیر داخلہ اور سینیٹر رحمان ملک  نے  کہا ہے کہ وہ پاکستان کو دہشت گردی سے کمزور کرنے کی سازشوں میں ملوث تھا۔ انہوں نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کو سزائے موت ملک و قوم کے بہترین مفاد میں ہے ،کلبھوشن کو سزائے موت سے دشمن عناصر اور دہشت گردوں کو سخت پیغام ملے گا ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک کے خلاف سازش کرنے والے ”را“کے ایجنٹس کسی رحم کے حقدار نہیں ہیں ۔

دفاعی تجزیہ نگار طلعت مسعود نے کہا ہے کہ بھارت کلبھوشن یادیو کو سزائے موت پر خاموش نہیں بیٹھے گا بلکہ ان کی کوشش ہو گی کہ اسے سزا نہ ہونے دے ۔

 انکا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو کو سزا موت کا فیصلہ قانونی ؒلحاظ سے بلکل درست ہے مگر اس کا سیاسی اور سفارتی پہلو بھی ہے اور بھارت اب شور مچائے گا جس کیلئے پاکستان کو تیار رہنے کی ضرورت ہے ۔ ” اس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گا “۔

بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی

طلعت مسعود نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر پہلے سے ہی فائرنگ ہو رہی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان حالات کشیدہ ہیں ۔پاکستان بہت دیر سے کوشش میں ہے اور دنیا کو کافی حد تک شواہد دکھانے میں بھی کامیاب رہا ہے ۔

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ بھارت بھرپور اور منظم طریقے سے پاکستان میں دہشتگردی کر رہا ہے اور اسے فروغ دے رہا ہے اور اس میں کسی کو کوئی شک نہیں ہے ۔  انکا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو نے گرفتاری کے بعد پاکستان میں دہشتگردی کروانے کے اعترافی بیان دیے اور اب پوری قوم کلبھوشن یادیو کو سزا موت کے فیصلے کی حمایت کریگی ۔انکا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو کا معاملہ پاکستان کیلئے ٹیسٹ کیس تھا ، بھارت جس طرح پاکستان میں دہشتگردی کروا رہا ہے ، کلبھوشن یادیو کو بلکل درست سزا دی گئی ہے۔

تجزیہ نگار امتیاز عالم نے کہا ہے کہ کلبھوشن یادیو پر سنگین الزامات تھے جن کے تحت اسے سزا دی گئی ہے ۔ انکا کہنا تھاکہ کلبھوشن یادیو کو سزا موت دینے کے حکم کے بعد بھارت اور پاکستان میں کشیدگی مزید بڑھے گی اور بھارت سے سخت رد عمل آئے گا ۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو جو لوگ مطلوب ہیں وہ انکا مطالبہ کرتے گا اور اس کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا۔

سینئر صحافی اور معروف اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے بھارتی چینلز سے کلبھوشن یادیو کی سزا پر بات ہوئی ہے ،بھارت میں میڈ یا اور سیاسی جماعتوں نے واویلا مچانا شروع کر دیا ہے لیکن اس سے پاکستان پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ پاکستان نے ایک دہشت گرد کو سزائے موت سنائی ہے ۔

 حامد میر نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کو سزا ئے موت دینے پر پاکستان کو دباﺅ نہیں لینا چاہیے کیونکہ کلبھوشن یادیو کے خلاف بہت زیادہ ثبوت تھے ،وہ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث تھا ۔انہوں نے بتا یا کہ کچھ دنوں پہلے ایرانی سفارتکاروں سے بات ہوئی تو انہوں نے بتا یا کلبھوشن یادیو ایران میں بھی ایک نیٹ ورک چلا رہا تھا ،ایران نے اس حوالے سے پاکستان سے بھی انفارمیشن شیئر کی ۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبول بٹ اور افضل گرو جیسے فریڈ م فائٹرز کو پھانسیاں دیں لیکن اس سے کسی نے نہیں پوچھا ،پاکستان نے تو ایک دہشت گرد کو سزا دی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے اجمل قصاب کو پکڑا جو کہ نان اسٹیٹ ایکٹر تھا لیکن پاکستان نے بھارت کے اسٹیٹ ایکٹر کو پکڑا جو کہ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث تھا ۔

۔

مصنف کے بارے میں