ماحولیاتی تبدیلیوں سے دماغی اور نفسیاتی امراض میں اضافہ

ماحولیاتی تبدیلیوں سے دماغی اور نفسیاتی امراض میں اضافہ

نیو یارک: امریکی ماہرین صحت نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلیاں دماغی اور نفسیاتی امراض میں اضافہ کر سکتی ہیں۔

واشنگٹن سے امریکن فزیالوجیکل ایسوسی ایشن کی جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات صرف براہ راست متاثر ہونے والے افراد تک محدود نہیں رہیں گے، اس سے دمے، دل اور پھیپھڑوں کے امراض میں اضافے کے ساتھ ساتھ زیکا وائرس کے  امراض بھی بڑھنے کا خدشہ ہے۔

سیلاب ہو یا جنگلات کی آگ، ان واقعات کے بعد پہلے سے متاثر افراد ڈپریشن، خوف اور دیگر عارضوں میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ 2005 میں امریکا میں آنے والے ہولناک سمندری طوفان کترینہ کے بعد خودکشی کے واقعات اور اس سے وابستہ سوچ میں دگنا اضافہ ہوگیا تھا۔ اس واقعے کے بعد آدھی سے زائد آبادی شدید بے چینی کا شکار ہوئی تھی جبکہ امریکا ہی میں 2015  میں رونما ہونے والے ایک اور سمندری طوفان سینڈی کے بعد 15 فیصد آبادی بعد از حادثہ تناؤ کی شکار ہوگئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق قدرتی آفات میں اپنوں کی موت، معذوری، جائیداد سے محرومی، تحفظ، خود مختاری اور عزم میں کمی ہوجاتی ہے جس سے نفسیاتی امراض پیدا ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے گرمی بڑھنے، فضائی آلودگی، ہوا کی خراب کوالٹی اور دیگر قدرتی کیفیات سے دماغی امراض میں ہولناک اضافہ ہوسکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں