پیرس:  جسم فروشی کی صنعت سے تعلق رکھنے والے افراد نے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں رقم کے عوض جسم فروشی کرنے پر پابندی کے قانون کی منظوری کا ایک سال مکمل ہونے پر احتجاج کیا۔

مظاہرین، جن میں بڑی تعداد میں نوجوان خواتین تھیں اور بعض مردوں نے بینرز  اٹھائے ہوئے تھے جن پر درج تھا 'جرمانے بند کرو، ہم پر تشدد، ایڈز اور دوغلا پن ہمارے خریدار نہیں ہیں۔ یہ قانون جس کی خلاف ورزی کرنے پر تقریباً 4000 ڈالر کا جرمانہ عائد کیا جاتا ہے اس لیے منظور کیا گیا تاکہ خریداروں کے لیے رقم کے عوض جسمانی خدمات حاصل کرنے کو غیر قانونی بنا دیا جائے۔

مظاہرین نے سفید رنگ کے نقاب پہنے ہوئے تھے اور ان کے پاس بینرز تھے جن پر لکھا ہوا تھا ' جسم فروشی بھی ایک کام ہے'۔تنظیم ڈاکٹرز آف دی ورلڈ کے ٹم لیسٹر نے کہا کہ اس قانون کی منظوری کے بعد سے جنسی خدمات حاصل کرنے والوں کی تعداد میں کمی ضرور واقع آئی ہے لیکن اس کی وجہ سے جسم فروشی کی صنعت سے وابستہ لوگوں کے لیے روزگار کم ہوا ہے اور تشدد میں اضافہ ہو گیا ہے جس کے وجہ سے یہ قانون ناکام ثابت ہوا ہے۔

مصنف کے بارے میں