'ٹیم کی ناقص کارکردگی پر کوچنگ اسٹاف کو قربانی کا بکرا بنا دیا جاتا ہے'

لاہور: میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق ہاکی کوچ خواجہ جنید نے کہا جن لوگوں نے ٹیم انتظامیہ کے خلاف بیانات دیے وہ پی ایچ ایف کا حصہ ہیں اور ان سے کس نے بیانات دلوائے اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا ورلڈ ہاکی لیگ کی کارکردگی پر بحث ایگزیکٹو بورڈ کے ایجنڈے میں شامل ہے لیکن ٹیم انتظامیہ کو ایگزیکٹو بورڈ میں نہیں بلایا گیا۔

خواجہ جنید نے کہا کہ ہمیں ٹارگٹ دیا گیا تھا کہ 2020 ورلڈ کپ تک ٹیم چلائیں جس پر میں نے صدر پی ایچ ایف سے سینئر کھلاڑیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا مگر مجھے کہا گیا کہ نتائج کے ہم ذمہ دار ہیں مگر مجھے اور پوری ٹیم انتظامیہ کو بغیر وجہ بتائے گھر بھیج دیا اور جس نے میرے خلاف بیان دیا اس کو نوازا گیا۔

سابق کوچ نے کہا کہ اگر میرٹ پر فیصلے کر کے بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں لیکن تواتر کے ساتھ ٹیم مینجمنٹ میں تبدیلی سے ہاکی کو بہت نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی تحقیقات کیلئے حکومت کی طرف سے جانبدارانہ کمیٹی بنائی جائے جس میں تمام شواہد پیش کریں گے۔

یاد رہے ہاکی ٹیم کی مستقل ناقص کارکردگی کے سبب پاکستانی ہاکی فیڈریشن کے صدر بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد خالد سجاد کھوکھر نے ہاکی ٹیم کیلئے نئی سلیکشن کمیٹی اور مینجمنٹ کی فوری تقرری کا اعلان کر دیا تھا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں