محکمہ خوراک بلوچستان میں خردبرد کے ملزم کی درخواست ضمانت خارج کردی

اسلام آباد :سپریم کورٹ نے محکمہ خوراک بلوچستان میں خردبرد کے ملزم محمد حسیم خان آفریدی کی درخواست ضمانت خارج کردی عدالت نے مقدمہ کا ٹرائل کرنے والی عدالت کو ہدایت کی ہے کہ 6ماہ میں کیس کا فیصلہ کرے ۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں عدالت عظمی کے تین رکنی بینچ نے  کیس کی سماعت کی ۔ چیف جسٹس کا ملزم کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حسیم خان اس سنٹرکے نگران افسر تھے جس میں خرد برد کی گئی تھی تو اصل ذمہ داری انہی پر عائد ہوتی ہے۔

ملزم کے وکیل نے بتایا کہ انکے موکل 15نومبر2015سے گرفتار ہیں لیکن ابھی تک 30میں سے صرف6گواہان پیش کئے گئے ہیں جن کے بیانات ریکارڈ کئے گئے ہیں، جبکہ خرد برد کے اصل ذمہ دار سیکرٹری خوراک علی بخش بلوچ ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں ۔ جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کے موکل کی وجہ سے کیس کا ٹرائل مکمل ہونے میں تاخیر ہورہی ہے کیونکہ وہ پہلے مفرور بھی رہے جبکہ ملزم کے مفرورہونے کی بناپرہائی کورٹ نے ضمانت کی درخواست منظور نہیں کی ۔

عدالت نے درخواست واپس لینے کی بنیادپرخارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ 6مہینوں میں کیس کافیصلہ کرے اور ملزم ٹرائل کورٹ کے ساتھ تعاون کریں۔