لاہور:زندگی کی پریشانیوں اور مصیبتوں سے تنگ آکر لوگ مایوسیوں کا شکار ہوجاتے ہیں یا پھر تھک کر ٹوٹ بھی جاتے ہیں لیکن اس کیساتھ ساتھ ذکر وعبادت کرنے سے انسان اپنے اندر روحانی اور جسمانی قوت پیدا کرکے مایویسی و ناکامی سے باہر نکل سکتا ہے۔

جدید تحقیقات میں بھی ہر ایسے انسان پرزوردیا گیاہے کہ وہ مراقبہ اوریوگا کے ذریعہ اپنی ان ذہنی قوتوں کو بیدار اور مجتمع کرنے پر توجہ دے جو انسان کو روزانہ تروتازہ اور عزم و قوت سے مالامال کرتی ہیں۔یہ عمل صرف ایکسرسائز تک ہی محدود رہتا ہے ۔اسکی فکر کو عرفان نصیب نہیں ہوتا۔

جو لوگ مراقبہ کرنا چاہتے ہیں ان کے لے نماز بہترین عمل ہے۔ نماز ایسا قدرتی عمل ہے جو یکسوئی میں باطنی کاملیت دیتا ہے اور یہ اللہ کا پسندیدہ عمل ہے جو انسان کو قرب الٰہی سے آشنا کرتا اور اسکی منازل آسان کردیتا ہے۔نماز عبادت اور ارتکاز و یکسوئی کی لافانی قوت کا نام ہے۔

اگر خیال اللہ کی جانب ہو اور انسان اس لمحہ اپنی سوچ اللہ کے ذکر پر مرکوز کرے تو ایسے انسان کے اندر اس ذکر کی تاثیر سے بہت بڑی باطنی تبدیلی شروع ہوجاتی ہے اور انسان پھراپنی پریشانیاں اور ما یوسیاں بھول کر ایک ہی سمت میں یکسو ہو جاتا ہے جس سے اسکی ذہنی پریشانیوں میں نمایاں کمی آنے لگتی ہے۔