سندھ حکومت نے صوبے بھر میں لاک ڈاؤن ختم کر دیا

سندھ حکومت نے صوبے بھر میں لاک ڈاؤن ختم کر دیا
شادی ہالز اور سکولز 15 ستمبر تک بند رہیں گے، سندھ حکومت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

کراچی: سندھ حکومت نے صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کی پابندیاں ختم کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ تاہم شادی ہالز اور سکولز 15 ستمبر تک بند رہیں گے۔


سندھ کورونا ٹاسک فورس کے فیصلوں کے تحت جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کاروباری سرگرمیوں کے نئے اوقات کار کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ سندھ میں ہفتے کے چھ دن تمام کاروباری سرگرمیاں جاری رہیں گی۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کاروباری اوقات کار صبح چھ بجے سے رات آٹھ بجے تک ہوں گے۔ تاہم ہفتے کے روز سندھ میں کاروباری سرگرمیاں رات نو بجے تک ہو سکیں گی۔

اس کے علاوہ سینماز، تھیٹرز، ہوٹلز اور ریسٹورنٹس پر عائد پابندیاں بھی ختم کر دی گئی ہیں لیکن شادی ہالز اور سکولز 15 ستمبر تک بند رہیں گے۔ دوسری جانبب تمام کھیلوں کے میدانوں میں مشروط سرگرمیوں کی اجازت دی گئی ہے۔

ایس او پیز کے تحت شائقین کے بغیر کھیلوں کے ٹورنامنٹس کا انعقاد کیا جا سکے گا۔ سیاحتی مقامات بھی کھول دیے گئے اور ٹورازم اور ہوٹلوں میں رہائش کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔ بیوٹی پارلرز، جم اور کھیل کے میدانوں پر عائد پابندیاں بھی ختم کر دی گئی ہیں۔

ادھر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس صورتحال پر بیان دیتے ہوئے بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 8397 ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے 278 نئے کیسز سامنے آئے اور مزید 10 مریض انتقال کر گئے۔

انہوں نے بتایا کہ حالیہ اموات کے بعد کورونا سے انتقال کرنے والے مریضوں کی تعداد 2282 ہو چکی ہے جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 243 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ اس وقت 5861 مریض زیر علاج ہیںجن میں سے 251 مریضوں کی حالت تشویشناک جبکہ 45 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں۔

ادھر حکومت پنجاب نے بھی این سی او سی اور وزیراعلیٰ کی ہدایت پر شادی ہالوں کے علاوہ تمام کاروباری مراکز آج سے کھول دیے ہیں۔ تاہم مذہبی اجتماعات متعلقہ انتظامیہ کی اجازت اور ایس او پیز پر عمل درآمد سے مشروط ہوں گے۔

نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ تمام کاروباری مراکز ایس او پیز پر عملدرآمد کرنے کے پابند ہوں گے۔ تمام قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ معمول کے مطابق چل سکے گی۔

کاروبار کے اوقات کار اور ہفتہ وار چھٹیاں کورونا وائرس سے پہلے والے معمول کے مطابق ہوں گی۔ تاہم عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں، گزارش ہے کہ احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔