ہیلی کاپٹر سکینڈل، بھارتی فضائیہ کے سابق سربراہ گرفتار

ہیلی کاپٹر سکینڈل، بھارتی فضائیہ کے سابق سربراہ گرفتار

نئی دہلی :بھارتی پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے اینگلو اٹالین کمپنی آگستا ویسٹ لینڈ کے ساتھ ہیلی کاپیٹروں کی خریداری کے معاملے میں مالی بدعنوانی کے الزامات کے بعد بھارتی فضائیہ کے سابق سربراہ ایس پی تیاگی کو گرفتار کر لیا ہے۔


سینٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن (سی بی آئی) کا کہنا ہے ایس پی تیاگی نے کمپنی کو 'ناجائز فوائد' دیے تھے اور دیگر افراد کو رشوت دینے کی راہ ہموار کی تھی۔بھارتی حکام کی جانب سے مارچ 2013 میں آگستا ویسٹ لینڈ اور ان کی مالک کمپنی فن میکانیکا کے خلاف مجرمانہ مقدمہ دائر کیا تھا۔

ایس پی تیاگی نے اس سے قبل اپنے اوپر عائد الزامات کی تردید کی تھی۔سی بی آئی کا کہنا ہے کہ ان کے کزنز جولی تیاگی اور ڈوکسا تیاگی کو بھی رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔یہ سکینڈل 2013 میں اس وقت منظرعام پر آیا تھا فن میکانیکا کے سربراہ گیوسیپ اورسی کو بدعنوانی کے الزام میں اطالوی شہر میلان میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اطالوی حکام کا کہنا تھا کہ وہ کئی ماہ سے رشوت اور مالی غبن کی تفتیش کرتے رہے ہیں۔ گیوسیپ اورسی نے کسی قسم کے غیرقانونی کام میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

خیال رہے کہ بھارت کی وزارت دفاع نے 2014 میں 75 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے عوض 12 ہیلی کاپٹروں کے معاہدے کو منسوخ کر دیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ وہ اس حوالے سے خود تفتیش کریں گے۔اے ڈبلو 101 ماڈل کے ان 12 ہیلی کاپٹروں کی خریداری کا معاہدہ انتہائی خاص افراد یعنی صدر، وزیر اعظم اور سینیئر سیاست دانوں کے سفر کے غرض سے کیا گیا تھا۔