ایک ہیرا، چھ افسانے

کوہ نور کا شمار دنیا کے متنازع ترین ہیروں میں ہوتا ہے۔

ایک ہیرا، چھ افسانے

کوہ نور کا شمار دنیا کے متنازع ترین ہیروں میں ہوتا ہے۔یہ ہیرا کئی صدیوں تک معرکہ آرائیوں اور سازشوں کا موضوع بنا رہا ہے، اور مغل شہزادوں، ایرانی جنگجوؤں، افغان حکمرانوں اور پنجابی مہاراجوں کے قبضے میں رہا ہے۔


105 قیراط وزنی یہ قیمتی پتھر 19 صدی کے وسط میں برطانویوں کے ہاتھ آیا، اور اب شاہی زیور کے طور ٹاور آف لندن میں نمائش کے لیے رکھا ہوا ہے۔اس ہیرے کی ملکیت بہت سارے ہندوستانیوں کے لیے جذباتی معاملہ ہے، بہت سے لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ برطانیہ نے یہ ہیرا ان سے چرا لیا تھا۔

ولیم ڈیلرمپل اور انیتا آنند نے اس موضورع پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام 'کوہ نور: دنیا کا بدنام ترین ہیرا۔' جس میں مصفین نے اس پیش قیمت ہیرے کے گرد گھومنے والی افسانوی کہانیوں یا غلط فہمیوں کا احاطہ کیا ہے۔

سنہ 1849 میں جب کوہ نور گورنر جنرل لارڈ ڈلہوزی کے ہاتھ آیا تو انھوں نے اس کی باضابطہ تاریخ کے ہمراہ اسے ملکہ وکٹوریا کو بھیجنے کی تیاری کی۔انھوں نے اس ہیرے کی تحقیق کا کام دہلی میں ایک جونیئر اسسٹنٹ میجسٹریٹ تھیو میٹکاف کو سونپا جو جوئے اور پارٹیوں میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔

لیکن میٹکاف نے افواہوں اور گپ شپ سے کچھ زیادہ ہی استفادہ کر لیا۔ اس وقت سے لے کر لاتعداد مضامین میں وہی کہانیاں بیان کی گئی ہیں یہاں تک کہ کوہ نور کے حوالے سے ویکیپیڈیا پر بھی اس بات کو حقیقت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

ذیل میں کوہ نور سے متعلق ان چھ 'افسانوی کہانیوں' کا ذکر ہے جس کا تذکرہ کتاب میں کیا گیا ہے۔

کوہ نور جب برطانیہ آیا تو اس کا وزن 3۔190 میٹر قراط تھا اور اس سے ملتے جلتے کم از کم دو ہیرے اور بھی تھے، دریائے نور (اندازاً -195-175 میٹرک قراط وزنی) جو اب تہران میں ہے، اور مغل اعظم ہیرا (9۔189 میٹرک قراط) جس کے بارے میں جدید جوہریوں کا خیال ہے کہ وہ اورلوف ہیرا ہے۔ یہ تینوں ہیرے سنہ 1739 میں ہندوستان پر ایرانی حکمران نادر شاہ کے حملے کے بعد یہاں سے لوٹے گئے مال کے ساتھ ایران لے جائے گئے تھے۔

19ویں صدی کے اوائل میں جب یہ ہیرا پنجاب پہنچا اور اس کو ایک ممتاز اور افضل ہیرا سمجھنے کا سلسلہ شروع ہوا۔

غیرتراشیدہ کوہ نور کے درمیان میں پیلے داغ تھے جو اس کے وسط تک موجود تھے، ان میں ایک دھبہ بڑا تھا اور روشنی کو منعکس نہیں کرتا تھا۔اسی وجہ سے ملکہ وکٹوریا کے شوہر پرنس البرٹ کوہ نور کو دوبارہ تراشنے کے حق میں تھے۔

کوہ نور دنیا کا سب سے بڑا ہیرا نہیں ہے۔ درحقیقت یہ دنیا کا 90واں بڑا ہیرا ہے۔دراصل جو سیاح اسے ٹاور آف لندن میں دیکھتے ہیں وہ اکثر اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ کتنا چھوٹا سا ہے، خاص طور پر جب وہ اس کا موازنہ قریب ہی نمائش کے لیے رکھے گئے دو بڑے کلینن ہیروں سے کرتے ہیں۔

یہ جاننا ناممکن ہے کہ کوہ نور کی دریافت کب اور کہاں ہوئی۔ اسی وجہ سے یہ ایک پراسرار پتھر ہے۔کچھ یہ بھی خیال کرتے ہیں کوہ نور دراصل شیامنتک پتھر ہے جس کا ذکر ہندوؤں کے بھگوان کرشنا سے متعلق مذہبی کتاب بھگوت پران میں ملتا ہے۔

تھیو میٹکاف کی رپورٹ کے مطابق یہی روایت ہے کہ 'یہ ہیرا کرشنا کی زندگی کے دور میں ہی نکالا گیا تھا۔'

لیکن ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں یہ ہیرا کان سے نہیں نکالا گیا تھا بلکہ شاید جنوبی انڈیا میں خشک دریائی سطح سے نکالا گیا تھا۔ انڈین ہیرے کانوں سے نہیں نکلتے بلکہ دریائی زمین سے ملتے ہیں۔

ہندو اور سکھ ہیروں کو دوسرے جواہرات سے زیادہ قیمتی سمجھتے تھے جبکہ مغل اور ایرانی بڑے، غیرتراشیدہ اور چمکتے پتھروں کو ترجیح دیتے تھے۔بلاشبہ کوہ نور کا شمار مغلوں کے اس پیش قیمت خزانے میں ہوتا تھا جس میں بہترین اور غیرمعمولی جواہرات موجود تھے، لیکن اس خزانے میں بیشتر قیمتی پتھر ہیرے نہیں تھے۔ مغل بدخشان کے سرخ سپینل اور برما کے سرخ یاقوتوں میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے۔یہاں تک کے مغل بادشاہ ہمایوں نے بابر کے ایک ہیرے کو ایرانی بادشاہ شاہ طہماسپ کو جلاوطنی کے دوران تحفے میں دے دیا تھا۔ یہ خیال بھی ہے کہ یہی کوہ نور تھا۔

بابر کا یہ ہیرا دوبارہ دکن پہنچا لیکن یہ واضح نہیں کہ یہ دوبارہ کب اور کیسے مغلوں کے پاس کیسے پہنچا۔

معروف قصہ ہے کہ نادر شاہ نے مغل بادشاہ کو اس کے ہیرے سے محروم کرنے پر اکسایا، جو اس نے اپنی پگڑی میں چھپا رکھا تھا۔لیکن محمد شاہ کے پاس یہ واحد قیمتی پتھر نہیں تھا جسے اپنی پگڑی میں چھپا کر رکھتے، اور جسے نادر شاہ چالاکی سے پگڑی تبدیل کر کے حاصل کر لیتے۔ایرانی مورخ ماروی کے مشاہدے کے مطابق، بادشاہ قیمتی پتھر اپنی پگڑی نہیں چھپا نہیں سکتا تھا، کیونکہ اس وقت وہ انتہائی دلکش اور قیمتی شاہی تخت کاحصہ تھا جسے شاہ جہان کا مور تخت کہا جاتا تھا۔

وہ اپنے ذاتی مشاہدے کے بارے میں لکھتے ہیں کوہ نور اس غیر معمولی تخت کی چھت پر ایک مور کے سر پر نصب تھا۔

چھٹی افسانوی کہانی: کوہ نور کو اناڑی بن سے تراشا گیا جس سے اس کا سائز کم ہوگیا

 فرانس کے جواہر کے تاجر اور مسافر یاں پیتستے ٹوورنیئر کو مغل بادشاہ اورنگزیب نے اپنے ذاتی جواہرات دیکھنے کی اجازت دی تھی اور ان کے مطابق پتھر تراش ہوٹینسیو بورگیو نے ایک بڑے ہیرے کو جلا دیا تھا نتیجتا اس کا سائز کم ہو گیا۔

لیکن انھوں نے اس ہیرے کی شناخت مغل اعظم ہیرے کے طور پر کی تھی جو ہیروں کے تاجر میر جملا نے مغل بادشاہ شاہ جہاں کو تحفے میں دیا تھا۔

دور جدید کے ماہرین کو یقین ہے کہ مغل اعظم ہیرا دراصل اولوف ہے، جو اس وقت کریملن میں روسی ملکہ کیتھرین کی عصائے شاہی پر نصب ہے۔مغلوں کے دیگر ہیروں کے بارے میں تقریباً سبھی بھول چکے ہیں اور تاریخی حوالوں میں تمام ہندوستانی غیرمعمولی ہیروں کا ذکر کوہ نور سمجھ کر ہی کیا جاتا ہے۔