علی عمران کی کمپنی کی جائیداد منجمد کرنے کا فیصلہ ہائی کورٹ میں چیلنج

علی عمران کی کمپنی کی جائیداد منجمد کرنے کا فیصلہ ہائی کورٹ میں چیلنج
علی عمران کی کمپنی کی جائیداد منجمد کرنے کا فیصلہ ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔۔۔۔۔فائل فوٹو

لاہور: اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف کے داماد علی عمران کی کمپنی کی جائیداد منجمد کرنے کا فیصلہ ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔درخواست گزار نے عدالت کے رو برو موقف اختیار کیا ہے کہ پنجاب پاور ڈیویلپمنٹ کمپنی کے سابق سی ایف او نے قانون کے مطابق اپارٹمنٹس خریدے اور اکرام نوید سے وصول رقم کا مکمل بینک ریکارڈ موجود ہے۔


درخواست گزار کا کہنا تھا کہ علی پلازہ کا بورڈ آف ڈائریکٹرز مکمل طور پر خودمختار ہے۔ درخواست گزار عمران علی یوسف علی پلازہ کے مکمل طور پر مالک نہیں ہیں۔ اکرام نوید کے بیان پر نیب نے علی پلازہ منجمد کر دیا۔ اکرام نوید سے وصول شدہ رقم واپس کرنے کیلئے تیار ہیں۔ درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ جائیداد منجمد کرنے کا حکم کالعدم قرار دیا جائے۔

واضح رہے گزشتہ ماہ شہباز شریف کے داماد علی عمران کی جائیداد سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی تھی جس میں علی عمران کے نام پر اربوں روپے کی جائیداد کا انکشاف ہوا تھا اور علی اینڈ کمپنی میں ساٹھ لاکھ شیئرز علی عمران کی ملکیت نکلے۔

رپورٹ کے مطابق علی ٹاور ایم ایم عالم روڈ پر سڑسٹھ دکانوں اور دفاتر کے مالک بھی علی عمران ہیں جبکہ علی اینڈ فاطمہ ڈیویلپرز کے ایک کروڑ شیئرز میں سے پینسٹھ لاکھ علی عمران کے ہیں اور وہ مدینہ فوڈز پروسیڈ کے ایک کروڑ پچیس لاکھ شیئرز کےمالک بھی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈی ایچ اے میں دو کنال کا رہائشی پلاٹ بھی علی عمران کی ملکیت میں شامل ہیں۔ علی پروسیڈ ڈیویلپرز، غوث اعظم ڈیویلپرز اور دیگر جائیداد میں بھی ان کا حصہ ہے جبکہ علی فوڈ پروسیڈ ڈیویلپرز میں پچاس لاکھ شیئرز کے مالک علی عمران اور اہلیہ ہیں۔

نیب پراسیکیوٹر نے مزید بتایا کہ گلبرگ تین میں کروڑوں مالیت کا پلاٹ اور مدینہ فیڈز مل بھی علی عمران یوسف کی ملکیت میں شامل ہے۔ علی عمران پر پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی کے سی ایف او سے رشوت لینے کا الزام ہے۔