میڈیا چپ کیوں ہے؟ 

Why is our media silent on the ongoing farmers' protests in India?

تحریر : محمد امنان

کیا ہمیں ان حالات میں چپ رہنا چاہیے؟؟ یہ سوال بطور صحافی میرے ذہن میں کھٹک رہا ہے کہ بھارت میں جاری کسانوں کے احتجاج پہ ہمارا میڈیا خاموش کیوں ہے؟؟ 

کشمیر ایشو پر یا انڈیا سے جھڑپوں کے دوران بارڈر پر بننے والی ٹینشن کی خبریں بھی بعض اوقات ہم محتاط انداز میں بتائے گئے اعداد و شمار کے مطابق ہی چلا رہے ہوتے ہیں۔ دوسری جانب انڈین میڈیا پاکستان سے اڑ کے جانے والے غباروں اور پرندوں کو بھی ایسے ڈرامائی انداز میں پیش کرتا ہے کہ خدا کی امان ،ضروری نہیں ہے کہ ہم بھی انڈین میڈیا کی طرح ڈرامے بازی پہ اتر آئیں مگر اتنا تو کر سکتے ہیں کہ ہم اپنا بیانیہ عالمی سطح پر پورے زور و شور کے ساتھ پیش کرنے کے لیے جو حقیقی مسائل ہمسایہ ملک میں چل رہے ہیں انہیں نیوز بلیٹنز کا حصہ بنا کر مودی سرکار کے جرائم اور خطے میں انکے فاشسٹ عزائم کو بے نقاب کر سکیں۔

بھارت میں کسانوں نے سنگھو بارڈر پر دھرنا دے رکھا ہے اور یہ کسان نہ صرف بھارتی پنجاب سے نکلے ہیں بلکہ ہریانہ اور دوسری ریاستوں سمیت وہاں کے عام باشعور شہری بھی مودی کے ظالمانہ کسان بل کے خلاف سڑکوں پر ہیں۔ کسانوں کی جانب سے 'بھارت بند' کی کال دی جا چکی ہے جسے شروع ہونا ہے اور اسکے بعد بھارت میں کیا نتائج ہوں گے ،ہمارا میڈیا اس پر انڈین پنجاب کے کسان رہنماﺅں اور وہاں کے مقامی صحافیوں سے رابطہ کر کے اس پہ باقاعدہ بحث کر سکتا ہے۔لیکن ہم خاموش ہیں ۔

حکومتی سطح پر کامیاب خارجہ پالیسی کے نعرے تو مارے جاتے ہیں مگر باقاعدہ عملی طور پر ہمسائے کی ناپاک حرکتوں اور شرارتوں کو جب جب عالمی سطح پر بے نقاب کیا جانا چاہیے تب وہاں بھی خاموشی ہوتی ہے۔ 

خارجہ پالیسی یا حکومتی سطح پر کشمیر کے مدعے پر آج تک جو کوششیں کی گئیں اسمیں صرف جمعے کے روز کھڑے ہو کر احتجاج ریکارڈ کرانے والی بات ہی عوام کو شاید یاد ہو گی اکثر و بیشتر تو وہ بھی بھول چکے ہوں گے۔خالصتان تحریک کی بازگشت بھارت میں کئی سالوں سے سنی جا رہی ہے کسان احتجاج کو وہاں خالصتان تحریک سے جوڑا جا رہا ہے اس معاملے پر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کرتار پور بارڈر کے معاملے پر جس طرح سکھ برادری کا اعتماد جیتا گیا کسان احتجاج پر بھی پنجاب سے ہمیں سکھ ، کسان اور وہاں کے سماجی رہنماﺅں کو بذریعہ ویڈیو کالنگ اپنے پروگرامز میں مدعو کیا جاتا اور اس معاملے کو عالمی سطح پر بھارتی حکومت کے خلاف اٹھایا جاتا۔ 

کسانوں پر جو ظلم مودی حکومت نے ڈھایا آنسو گیس کی شیلنگ، دہلی کے راستوں میں سڑکیں کھود دی گئیں، بزرگوں کو مارا پیٹا گیا ہم اس معاملے کو بھی اس طرح سے ایشو بنا کر چینلز پہ پیش کرنے سے قاصر رہے۔

کورونا وباءبھارت میں خطرناک حد تک تباہیاں مچا رہی ہے اس احتجاج کے بعد کورونا کی صورتحال وہاں کیا ہو سکتی ہے اس پوائنٹ پہ بھی کھیلا جا سکتا تھا کہ مودی سرکار نے جان بوجھ کر کسانوں کو اشتعال دلایا اور لاکھوں کروڑوں لوگوں کی زندگیاں داﺅ پر لگا دیں مگر ہم خاموش رہے۔

سکھوں کے ساتھ وہاں مسلمان ریاستوں کے کسان بھی شانہ بشانہ احتجاج ریکارڈ کروا رہے ہیں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور مودی سرکار کی اپنے لوگوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کو بھی ہم نے کبھی اس طرح سے نہیں کھیلا جیسے کھیلا جانا چاہئے تھا۔

مانا اس حکومت کے میڈیا کے ساتھ مسائل اور میڈیا کو دیوار سے لگانے کی کوشش میں ہم نے اپنے بے شمار ساتھی صحافیوں کو موت کو گلے لگاتے دیکھا کئی ہزار بیروزگار ہو گئے ، ملک میں افراتفری کا عالم ہے حکومت پر اپوزیشن نام کا بھوت سوار ہے اورسبھی وزراء دن رات اسی مشن پر لگے ہیں کہ نواز شریف نے دوران تقریر چائے رکھنے پر چائے لانے والے کو ڈانٹا کیوں ؟ میڈیا دکھانے میں مصروف ہے کہ مریم نواز پہ کسی نے شاہدرہ میں چھڑی پھینک دی وغیرہ وغیرہ ۔

عالمی سطح پر ہمیں اپنا بیانیہ تشکیل دینے میں شاید ابھی ڈھیروں وقت لگے گا ،ہم بھارت کے فاشسٹ اقدامات پر سوچتے ضرور ہیں مگر جو دکھانے کی چیزیں ہوتی ہیں ان پہ ہم خاموش ہی رہتے ہیں۔ بھارت کے اندر اٹھنے والی آوازوں کو کشمیر ایشو سے جوڑ کر بھارت کو عالمی سطح پر بے نقاب کیا جا سکتا ہے مگر شاید میڈیا کے تھنک ٹینکس پراپیگنڈہ ٹیکنیکس بھول کر بس ریٹنگ کے چکر میں بھیڑ چال کا حصہ بننے میں عافیت جان رہے ہیں ۔

وہاں کا نیشنل میڈیا کسانوں کے احتجاج کی منفی رپورٹنگ کر رہا ہے ہمارے پاس ایسے بے شمار پوائنٹس ہیں لیکن ہم جانے کس بات کا انتظار کر رہے ہیں پنجاب کے ریجنل چینلز نے اس کسان دھرنے کی جس طرح کوریج کی ہے اور جس طرح پنجابی فنکاروں نے اس سارے مدعے کو وہاں بسنے والے انسانوں کا مسئلہ سمجھتے ہوئے اجاگر کیا ہے ہم اس چیز سے بھی شاید بے خبر ہیں ۔

بھارتی پنجاب کے اداکاروں کو پروگرامز میں مدعو کیا جا سکتا تھا اس ایشو کو ہر چینل پہ ہر بلیٹن کا حصہ بنا کر ہم عالمی سطح پر بھارت کو تنہا کرنے کی کوششیں کر سکتے تھے مگر جانے کیوں ہم خاموش ہیں۔

 حکومتی سطح پر عمران خان کو بس اپنی حکومت کی کامیابیاں دکھانے کے لیے فنڈز جاری کرنے ہیں ،سوشل میڈیا بریگیڈ کے بعد وزارت اطلاعات کے ماتحت سٹریٹجک کمیونیکیشن ونگ تشکیل دیا جا سکتا ہے مگر ازلی دشمن کے پراپیگنڈہ کا جواب دینے کے لیے ہم پالیسیاں بنانے کو وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں ۔

جانے کیوں بطور صحافی مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا میڈیا مایوس ہو چکا ہے اور حکومت کے پاس اپوزیشن سے بڑا کوئی مسلہ نہیں ہے 

یہی وجہ ہے کہ ہم آج تک بطور قوم اپنا بیانیہ عالمی سطح پر اس طرح سے ہائی لائٹ نہیں کر پائے جس طرح کیا جانا چاہیے تھا ،شاید میں ہی ایسا سوچ رہا ہوں مجھ سے آپ کھلے دل سے اختلاف کر سکتے ہیں ،مگر بطور صحافت کے طالب علم میں ایسا سوچتا ہوں کہ ہمیں ایسا کرنا چاہیے۔

نوٹ: نیو ٹی وی نیٹ ورک  اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے  اپنی  تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ https://www.facebook.com/neotvnetwork پر  بھیج دیں۔

بلاگر  محمد امنان  گذشتہ 6 سال سے بطور صحافی مختلف نامور میڈیا چینلز کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ فی الوقت کراچی میں جی ٹی وی نیوز میں بطور کاپی ایڈیٹر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ امنان سیاسی اور سماجی مسائل پر گہری نظر رکھتے ہوئے اکثر تنقیدی کالمز لکھتے رہتے ہیں۔گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد سے ماس کمیونیکشن میں گریجوایشن کی ڈگری حاصل کرچکے ہیں۔

 بلاگر سے ان کے فیس بک پیج https://www.facebook.com/Amnan-Rajput-379819189289852   اور Amnanshami583@gmail.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔