سائبر وار اور بھارتی پروپیگنڈا کا پول ایک بار پھر کھل گیا، دفتر خارجہ

سائبر وار اور بھارتی پروپیگنڈا کا پول ایک بار پھر کھل گیا، دفتر خارجہ
کیپشن:   سائبر وار اور بھارتی پروپیگنڈا کا پول ایک بار پھر کھل گیا، دفتر خارجہ سورس:   فائل فوٹو

اسلام آباد: بھارت کی جانب سے پاکستان مخالف پروپیگنڈے پر حالیہ رپورٹ نے پاکستان کے موقف کی تائید کر دی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا پاکستان مخالف بھارتی سائبر وار کا پول کھل گیا ہے کیونکہ ایک ریاست سائبر اسپیش، میڈیا اور انٹرنیٹ کو ایک ملک کے خلاف دشمنی کے فروغ میں استعمال کر رہی ہے۔ زاہد حفیظ نے کہا پاکستان معاملے کو تمام ممکنہ پلیٹ فارم پر اٹھائے گا جبکہ بھارت فالس فلیگ آپریشن کی تیاری میں مصروف ہے لیکن مسلح افواج کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے تیار ہیں۔ 

خیال رہے کہ جعلی خبروں سے پاکستان کو بدنام کرنے کا انکشاف ہوا۔ بھارتی نیٹ ورک اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق اور یورپی پارلیمان پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ یورپی یونین نے سری واستوگروپ اورانڈین کرونیکلز کے خلاف تحقیقات شروع کر دیں۔ انڈین کرونیکلز کے پیچھے 'را' کے ملوث ہونے کی تحقیقات بھی جاری ہیں اور اس گروپ کا نیٹ ورک 116 ممالک تک پہنچ چکا ہے۔ یہ نیٹ ورک بھارتی میڈیا کے ذریعہ من گھڑت خبریں چلواتا رہا۔

سری واستو سے وابستہ کئی ادارے جن کا جنوبی ایشیا کی سیاست یا انسانی حقوق سے کوئی تعلق نہیں وہ بھی اقوام متحدہ میں پاکستان کے خلاف آواز اٹھاتے رہے۔ ساڑھے پانچ سو سے زیادہ نیوز ویب سائٹس اور مشکوک این جی اوز کے سری واستو گروپ سے براہ راست تعلق کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ 

ای یو ڈس انفو لیب کی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ مذکورہ ویب سائٹ پر شائع ہونے والے بہت سے کالم یورپی قانون سازوں اور صحافیوں کے ناموں سے غلط طور پر منسوب کیے جاتے ہیں اور ایسے صحافی جو بظاہر موجود بھی نہیں اور پاکستان مخالف مواد کو دوسری ویب سائٹ سے لے کر اسے بھارت میں دوبارہ شائع کیا جاتا ہے۔ 

ای یو کرانیکل ، ساوتھ ایشیا ڈیموکریسی فورم، احباب گلگت بلتستان تنظٰیم اور (WESTT) کے ناموں سے کام کرنے والے سماجی اداروں کو منظم کرتا ہے اور یورپی پارلیمنٹ میں بھارتی اثر و رسوخ کو بڑھاور دینے کے لئے بھی کام کرتا ہے جبکہ اس مقصد یورپی پارلیمنٹ میں کشمیر پر بھارتی موقف کو آگے بڑھانا ہے۔ لیب کے مطابق بھارت گزشتہ 15 سال سے یورپی یونین اور اقوام متحدہ کو غلط مواد کی تشہیر کے ذریعے گمراہ کر رہا ہے۔