پاکستان اسلام کے نام پر بنا,مزید تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا، سینیٹر سراج الحق

پاکستان اسلام کے نام پر بنا,مزید تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا، سینیٹر سراج الحق
کیپشن:   پاکستان اسلام کے نام پر بنا,مزید تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا، سینیٹر سراج الحق

لاہور: امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کا کہا ہے کہ کرپشن کی بیماری کرونا سے زیادہ خطرناک ہے۔ 70برسوں سے قوم کو دھوکہ دیا جا رہا ہے اب سیاستدانوں کو سنجیدہ رویہ اپنانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں عدم استحکام سے بھارت کو فائدہ ہو رہا ہے جو پہلے ہی جعلی اداروں کے ذریعے پوری دنیا میں پاکستان مخالف پروپیگنڈہ کر رہا ہے۔

منصورہ میں مرکزی ذمہ داران کے اجلاس اور ملاقات کے لیے آئے ہوئے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مہنگائی، غربت بے روزگاری اور لاقانونیت جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے سیاستدانوں کو سنجیدہ رویہ اپنا نا ہو گا۔ کرپشن دیمک کی طرح ملکی وسائل کو چاٹ رہی ہے۔ یہ کرونا سے بھی زیادہ خطرناک بیماری ہے۔ تھانوں سے لے کر پٹوار خانوں تک ہر جگہ کرپشن کا دور دورہ ہے۔

سینیٹر سراج الحق پی ٹی آئی کی حکومت نے نعروں کے باوجود ابھی تک احتساب کے نظام کو موثر نہیں بنایا، نہ تعلیم میں ریفارمز آئیں، نہ صحت کے شعبے کو بہتر کیا گیا۔ ملک قرضوں کی دلدل میں بری طرح دھنس چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ نسلوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے جس کے لیے سیاست دانوں کو سوچنا اور فیصلہ کرنا ہو گا کہ انھیں اپنا مفاد عزیز ہے یا 22کروڑ عوام کا۔

امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ قوم کو 70برسوں سے مختلف نعروں پر ٹرخایا جا رہا ہے۔ اب ملک مزید تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے۔ قوم نے مارشل لاء کے ادوار بھی دیکھ لیے اور جمہوریت کے ناکام تجربات سے بھی گزر چکی۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ برسلز کے ایک ادارے کی تفتیشی رپورٹ نے بھارت کے پروپیگنڈہ کی قلعی کھول دی ہے۔ 

سراج الحق نے مزید کہا کہا کہ ایک سال قبل بھی بھارت کی 250سے زیادہ جعلی این جی اوز اور ویب سائٹس کی نشاندہی ہوئی تھی جو پاکستان کے خلاف پوری دنیا میں پروپیگنڈہ کر رہی تھیں۔ اب تازہ ترین رپورٹ نے بھی بھارت کا اصل چہرہ پوری دنیا میں عیاں کر دیا، لیکن بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں نے چپ سادھ رکھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے خلاف کوئی جان دار موقف نہیں اپنایا۔ کشمیر کا مسئلہ ہو یا ہندوستان میں اقلیتوں پر ظلم، سمجھ نہیں آتی کہ ہمارے حکمران نئی دہلی کو منہ توڑ جواب دینے کو کیوں تیار نہیں۔