بل گیٹس نےدوبارہ کورونا وائرس ختم ہونے کی پیشگوئی کر دی

بل گیٹس نےدوبارہ کورونا وائرس ختم ہونے کی پیشگوئی کر دی

واشنگٹن:  دنیا کی امیر ترین شخصیات میں شمار ہونے والے مائیکروسافٹ کمپنی کے مالک بل گیٹس نے ایک بار پھر کورونا وبا ختم ہونے کی پیشگوئی کر دی۔

تفصیلات کے مطابق بل گیٹس نے  اپنے بلاگ گیٹس نوٹس کے رواں سال کے ریویو میں یہ بات لکھی کہ  ایک اور پیشگوئی کرنا بے وقوفی لگتی ہے مگر کورونا کے حوالے سے کہوں گا  کہ  وبا کا خطرناک مرحلہ  اگلے برس یعنی2022 میں کسی بھی وقت ختم ہو جائے گا،انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ اس میں کوئی شک نہیں کہ  کورونا وائرس کے نئے ویرئینٹ اومیکرون کے باعث دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، تاہم اب  ہم ضرورت پڑنے پر پہلے سے بہتر اور مزید  مؤثر  ویکسینز تیار کرنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہیں۔

یاد رہے کہ بل گیٹس نے کچھ عرصہ قبل بھی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا تھا کہ 2022ء کے آخر تک دنیا کورونا وائرس کے انفیکشن سے چھٹکارا پاکر مکمل طور پر معمول پر آجائے گی۔ امریکی ٹی وی سکائی نیوز کو انٹرویو میں بل گیٹس نے کہا تھا  کہ آئندہ سال کے ختم ہونے تک کورونا انفیکشن کی شرح انتہائی کم سطح پر آجائے گی۔

یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ  یہ بل گیٹس ہی تھے جنہوں نے کورونا وائرس پھیلنے کی پیش گوئی 2018 میں ہی کردی تھی ۔

 18 اپریل 2018 کو لندن کی میساچوسٹس سوسائٹی اور نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیکل سوسائٹی کے زیر اہتمام ملیریا کے حوالے سے ہونے والے ایک سربراہی اجلاس میں بل گیٹس کا کہنا تھا کہ دنیا میں کہیں بھی وبائی بیماریوں کے حوالے سے ترقی نہیں ہورہی ۔ دنیا کو وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے سنجیدگی سے تیاری کرنے کی ضرورت ہے جیسے وہ جنگ کے لیے کرتے ہیں۔

 کانفرنس کے دوران انسٹیٹیوٹ آف ڈیسیزس ماڈلنگ‘ کی ایک مکمل ریسرچ کا حوالہ دیتے ہوئے اظہار خیال کیا تھا کہ ایک نیا وائرس دنیا میں کتنی جلدی پھیل سکتا ہے اور کتنا نقصان پہنچا سکتا ہے۔

بل گیٹس کا کہنا تھا کہ آنے والی دہائی میں ایک ایسا وائرس آئے گا جو وبا کی صورت اختیار کر لے گا۔ اس وائرس سے ہونے والے نقصان کے بارے میں کہا تھا کہ نئی دہائی میں آنے والا وبائی وائرس 6 ماہ میں 3 کروڑ سے زائد لوگوں کی جان لے سکتا ہے۔