سردجنگ کے دوران محفوظ کیا گیاسینکڑوں ٹن سونا واپس جرمنی پہنچ گیا

سردجنگ کے دوران محفوظ کیا گیاسینکڑوں ٹن سونا واپس جرمنی پہنچ گیا

برلن :جرمنی کا مرکزی بینک ’بنڈس بانک‘ بتدریج وہ سونا واپس لے کر چلا گیا جسے سرد جنگ کے دوران بیرونی دنیا بالخصوص امریکا میں رکھا گیا تھا۔ اب تک تین سو ٹن سونا واپس جرمنی پہنچ چکا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق 2016ءمیں نیویارک کے فیڈرل ریزرو بینک سے ایک سو گیارہ ٹن سونا واپس لایا گیا۔ وہاں پڑے ہوئے تین سو ٹن سونے کی یہ آخری کھیپ تھی، جو واپس جرمنی لائی گئی۔


جرمنی کا مرکزی بینک پیرس سے بھی ایک سو پانچ ٹن سونا واپس لایا ۔جرمنی کے مرکزی بینک نے نیویارک میں پڑے ہوئے تین سو ٹن سونے اور پیرس میں محفوظ تین سو چوہتّر ٹن سونے کو واپس جرمنی منتقل کرنے کا پروگرام 2013ءمیں شروع کیا تھا۔ ا±س سے پہلے تک جرمنی کا صرف اکتیس فیصد سونا بڑی بڑی ڈلیوں کی صورت میں ملک کے اندر محفوظ تھا۔ ابھی بھی جرمنی کا اکیانوے ٹن سونا بدستور پیرس میں پڑا ہے، جسے مرحلہ وار واپس لایا جائے گا۔ اس خالص سونے کی جرمنی منتقلی کا سارا عمل انتہائی راز میں رکھا جاتا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ جرمنی کے سونے کے مجموعی ذخائر تین ہزار تین سو اکیاسی ٹن پر مشتمل ہیں۔ جرمنی کا باقی سونا نیویارک اور لندن میں محفوظ ہے۔ جرمنی کے پاس سونے کی دو لاکھ ستّر ہزار سے زائد ڈلیاں ہیں اور یہ دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا دوسرا بڑا ذخیرہ ہے۔سرد جنگ کے دوران اس سونے کو بیرونِ ملک منتقل کر دیا گیا تھا، یہ سوچ کر کہ جرمنی کی بجائے یہ سونا نیویارک کے فیڈرل ریزرو بینک، لندن کے بینک آف انگلینڈ اور پریس کے بینک آف فرانس میں زیادہ محفوظ رہے گا۔