منیلا : فلپائن کے صدر روڈریگوڈوٹرٹے نے جرائم سے متعلق عالمی عدالت کے روبرو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے مقدمے کے دوران کہا ہے کہ جیل بھیجے

جانے کے بجائے وہ فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑے ہونا زیادہ پسند کریں گے۔ عالمی عدالت میں ان کے خلاف منشیات کے خلاف جنگ کے دوران ہزاروں فلپائنوں

کے قتل کا کیس زیر سماعت ہے۔

عدالت کے روبرو انہوں نے منشیات فروشوں کو قتل کرنے کے احکامات دینے کے الزام سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت انہیں جیل بھیجنے کے بجائے موت کی سزا

سنادے، یاد رہے منشیات کے خلاف جنگ میں قریب 4000 فلپائنوں کو بے رحمی سے قتل کردیاگیاتھا۔

ضرور پڑھیں:کیا آپ کو معلوم ہے کہ شاہد آفریدی کا اپنی اہلیہ نادیہ آفریدی کے ساتھ شادی سے پہلے کیا رشتہ تھا ؟ وہ معلومات جو شائد آپ کو معلوم نہیں ،جان کر آپ کو بھی

بے حد خوشی ہو گی.


ادھر عالمی عدالت کے سمانے شکایت کنندہ ایک وکیل اور دو سیاستدانوں نے کہا منشیات کے خلاف جنگ کے دوران ماورائے عدالت ہلاکتوں کا حکم صدر نے دیا تھا۔