عابد باکسر کی گرفتاری اور پاکستان کو لاحق امراض کی تشخیص!


مارچ 2002 میں، مشہور سٹیج اداکارہ نرگس پہ لاہور کے ایک تھانے میں نہ صرف شدید تشدد کیا جاتا ہے بلکہ تیز دھار آلے سے سر کے بال اور بھنویں بھی مونڈ دی جاتی ہیں، بعد ازاں اسکی تصاویر بھی میڈیا پہ آگئیں۔ 2011 میں پاک آرمی کے بریگیڈئیر محمود شریف کی بیوہ نسیم شریف کو قتل کردیا جاتا ہے اور مقتولہ کی جائیداد پر جعلی دستاویزات کے ذریعے قبضہ کرلیا جاتا ہے بعد ازاں عدالت اس کیس میں ایک پولیس انسپکٹر کے دو سگے بھائیوں کو سزائے موت سناتی ہے اور انسپکٹر مفرور ہوجاتا ہے۔


ان دونوں کیسز کا مرکزی کردار،چھ سال میں پینسٹھ جعلی پولیس مقابلوں میں درجنوں پاکستانیوں کو قتل کرنے والے سابق پولیس انسپکٹر، عابد (جو سپورٹس کے کوٹے پر بھرتی ہونے کی وجہ سے عابد باکسرکہلاتا ہے) پرسوں انٹرپول کے ذریعے دبئی میں گرفتار ہوا چند دن میں پاکستان لایا جائے گا۔ یہ بات صیغہ راز میں کبھی نہیں رہی کہ ہماری پولیس، سیاسی لوگوں کے ایما پہ گھناونے جرائم میں ملوث ہے لیکن میڈیا اور پاکستانی عوام کی اس کیس میں خصوصی دل چسپی کی وجوہات نہ صرف عابد باکسر کا میڈیا کے انڈر ورلڈ ڈان کے طور پر کام کرنا بلکہ بہت سے دیگر انکشافات کی امید بھی ہے ۔


آپکی سماعتوں میں یقینا سبزہ زار میں ہونے والا مبینہ پولیس مقابلہ موجود ہوگا جس میں پانچ پاکستانی شہری جعلی پولیس مقابلے میں پار کردیئے گئے، عابد باکسر نے حلفا بتایا ہے کہ کیسے اسکے سینئر افسر نے کہاکہ وزیراعلی صاحب کا حکم ہے کہ ان پانچ افراد کو پولیس مقابلے میں پار کرنا ہے عابد باکسر کے انکار پہ اسی عمرورک نے وہ پانچوں بندے مارے تھے۔


ایک عام پاکستانی نوجوان کی طرح میں بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ جب سسٹم اس حد تک زوال کا شکار ہو کہ خود ایک پولیس انسپکٹر ( عابد باکسر ) یہ کہے کہ کوئی بھی جعلی پولیس مقابلہ، اجازت کے بغیر نہیں ہوسکتا، اور بیشتر مقابلوں کیلئے حکام بالا خود ہدایات دیتے ہیں، جب خود ایک ایم این اے (فیصل سبزواری) یہ کہے کہ سینٹ کی سیٹ پچیس کروڑ سے ایک ارب میں بکتی ہے، جب خود ایک وزیر قانون (رانا ثنا اللہ) عابد باکسر جیسے سزایافتہ مجرم کی صفائیاں دیتے ہوئے کہے کہ عابد باکسر سے متعلق الزامات بے بنیاد ہیں، جب وزیراعظم اور وزیر خزانہ اپنے عہدوں کے تقدس کو بیچ کر گلف ممالک کے خفیہ اقامے رکھیں اور خفیہ نوکریاں کریں، توکیا یہاں سے واپسی ممکن ہے؟


شاید اس سوال کے جواب میں اکثریت کا جواب نہ میں ہو لیکن میری دانست میں تبدیلی ممکن ہے۔ جس طرح انسانوں کو مرض لاحق ہوتے ہیں اور انکی درست تشخیص اور بروقت علاج سے انسان دوبارہ توانا اور صحتمند ہوجاتا ہے بعینہ ، معاشرے اور قوموں کو بھی مرض لاحق ہوتے ہیں جن کا علاج ممکن ہے پاکستانی معاشرے کو لاحق مرض ہمارا بیمار انتخابی نظام ہے جو کرپٹ اور بدمعاش لوگوں کو فلٹر کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور یہ افراد پارلیمانی اداروں میں بیٹھ کر رسہ گیروں، بھتہ خوروں، ملک دشمنوں اور غداروں کی سرپرستی کرتے ہیں، قانون ساز اداروں میں بیٹھے افراد کی اکثریت نہ صرف قانون شکن ہے بلکہ بذات خود جرائم پیشہ ہے۔ ہمارے انتخابی نظام کی درستگی اور ان نقائص کے علاج سے ارض پاکستان پھر سے صحتمند اور توانا ہوکر اقوام عالم میں ممتاز ہونے کی بدرجہ اتم صلاحیت رکھتی ہے

(ادارے کا بلاگر کی تحریر کے ساتھ متفق ہونا قطعا ضروری نہیں)