برطانوی پارلیمنٹ میں ہر پانچ میں سے ایک فرد جنسی ہراسانی کا شکار ہوا


لندن: برطانوی پارلیمنٹ میں کام کرنے والے ہر پانچ میں سے ایک فرد کو گزشتہ برس جنسی ہراسانی اور غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔


برطانوی پارلیمنٹ کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ میں کام کرنے والے ہر پانچ میں سے ایک فرد کو گزشتہ برس کے دوران جنسی طور پر ہراساں کیا گیا یا اسے غیر مناسب سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ اس رپورٹ میں اس طرح کے رویوں سے بچنے کے لیے شکایات جمع کرانے کا ایک نیا نظام لانے کے ساتھ ادارے کے کلچر میں بنیادی تبدیلیاں لانیاور اس جرم میں ملوث افراد کے لیے سزا کی سفارش کی گئی ہے۔


ہائوس آف کامن کی سربراہ اینڈریا لیڈسم کا اس موقعے پر کہنا تھا کہ آج کا دن برطانوی پارلیمنٹ اور سیاست کے لیے بہت اہم ہے۔ جنسی ہراسانی سے متعلق نیا نظام اور قانون لانے کی وجہ سے ہماری پارلیمنٹ دنیا بھر کی بہترین پارلیمنٹ بن جائے گی جو اپنے ملازمین کو کام کرنے کے دوران انہیں عزت بھی دیتے ہیں۔ برطانوی پارلیمان کی طرف سے تیار کرائی گئی اس رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ کے 20 فیصد افراد نے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی شکایت کی اور ایسی شکایات کرنے والی خواتین کی تعداد مردوں کے مقابلے میں دو گنا تھی۔