بھارتی مذہبی انتہا پسندی، 200ہندو یاتریوں کو پاکستان آنے سے روک دیا

لاہور: بھارتی حکومت نے مذہبی انتہا پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے200 ہندو یاتریوں کو پاکستان آنے سے روک دیا۔گیارہ فروری کو  ایک مذہبی تہوار منانے کے لیے ہندو  یاتری پاکستان آنا چاہتے تھے لیکن بھارتی حکومت نے انہیں اجازت دینے سے انکار  کر دیا۔ 

  گزشتہ روز لاہور کے کرشنا مندر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ہندو رہنما ڈاکٹر منور چند نے بھارت کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی حکومت نے اپنے ہندو یاتریوں کو پاکستان آنے سے روک دیا ہے۔ڈاکٹرمنورچند نے بتایا کہ بھارت سے 200 ہندو یاتریوں نے 11 فروری کو ایک مذہبی تہوار منانے کے لیے پاکستان آنا تھا لیکن بھارتی حکومت نے انہیں اجازت دینے سے انکار کردیا، بھارتی حکومت ہندوں کو ڈرا دھمکا کر پاکستان آنے سے روک رہی ہے۔

ڈاکٹر منور چند نے کہا کہ ہندو یاتریوں کو پاکستان آنے سے روکنا 1974 کے باہمی معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور ہندو برادری بھارت کی اس مذہبی دہشت گردی کو مسترد کرتی ہے، 1982 سے ہندو  یاتری پاکستان آرہے ہیں لیکن کسی ایک یاتری کو بھی آج تک کوئی نقصان نہیں پہنچا، پاکستان میں بھارتی ہندو اور سکھ یاتریوں کی بہترین خدمت اور حفاظت کی جاتی ہے۔