ڈومیسٹک کرکٹ کوختم نہیں کررہے:احسان مانی،6 ماہ میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی:وسیم خان

ڈومیسٹک کرکٹ کوختم نہیں کررہے:احسان مانی،6 ماہ میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی:وسیم خان
تصویر پی سی بی ٹوئٹر

لاہور:چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے کہا ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ کوختم نہیں کررہے ساتھ لیکرچلیں گے،نوکریاں خراب نہیں کریں گے پی سی بی کے ہر شعبے کا ریویو ہو گا،ڈومیسٹک کرکٹ کا ایک جامع پروگرام بن رہا ہے ، جو قابل ہوں گے وہ ساتھ رہیں گے،سال سے اوپرکے کھلاڑیوں کودیگرمعاملات میں سیٹل کیا جائے گا۔


تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایم ڈی وسیم خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین احسان مانی نے کہا کہ وسیم خان پاکستان کرکٹ کے ساتھ منسلک رہے ہیں،پہلے ساؤتھ ایشین ہیں جنہوں نے کسی کاؤنٹی کو ہیڈ کیا ،پی سی بی میں حکمت عملی کا فقدان ہے وسیم خان اس معاملے کو دیکھیں گے،پی سی بی کے ایم ڈی وسیم خان کے انتخاب میں شفاف طریقہ کاراپنایا گیا ہے۔

احسان مانی نے مزید کہا کہ کرکٹ بورڈ کا کام پالیسی اور حکمت عملی بناناہے،پی سی بی میں900 ملازمین ہیں زیادہ تر گراؤنڈز میں ہیں ،پی سی بی کو پروفیشنل آرگنائزیشن بنانا چاہتا ہوں،وسیم خان آسٹریلیااور نیوزی لینڈ میں بھی کھیلے ہوئے ہیں جبکہ وہ پاکستان کیلئے بھی کھیلے ہوئے ہیں ۔

چیئرمین کا کہنا تھا کہ پی سی بی کو ایسا ادارہ بنانا چاہتا ہوں جو دنیا میں کسی ادارے سے کم نہ ہو،وسیم خان کی لیڈر شپ کا کوئی ثانی نہیں،وسیم خان کاؤنٹی کی سربراہی کرنے والے پہلے جنوبی ایشیائی ہیں،انہوں نے بطور چیف ایگزیکٹو کاؤنٹی کو بھی ہیڈ کیا ہے،وسیم خان پہلے پاکستان نژاد برطانوی ہیں جنہوں نے کاؤنٹی کرکٹ میں معاہدہ کیا، آئین کے جائزے پر کام ہو رہا ہے،وسیم خان کے پاس کمرشل ،بزنس تجربہ بھی ہے جبکہ ان کے آنے سے پاکستان کرکٹ کو بہت فائدہ ہوگا۔

پی سی بی کے ایم ڈی وسیم خا ن نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹائم لگ جائے گا لیکن6 ماہ میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی،پہلے 3 ماہ میں سمت اور حکمت عملی بنائیں گے،ہمارا کام سسٹم کو مضبوط کرناہے،ہماری ٹیسٹ میں پرفارمنس اچھی نہیں ہے،گراس روٹ سطح پر خرابیوں کی جڑ سسٹم میں ہے،عالمی سطح پر کامیابی میں ہماراتسلسل نہیں ہے،ہم توجہ کر کے تبدیلی لائیں گے،نچلی سطح پرخرابیوں کی وجہ سسٹم میں خرابی ہے۔

وسیم خان نے مزید کہا کہ میری وفاداری پاکستان میں ہے،میرا کانٹریکٹ 3سال کاہے لیکن میں طویل مدت کیلئے یہاں رہناچاہتاہوں،انگلینڈ میں مجھے تنخواہ زیادہ مل رہی تھی لیکن پاکستان میں کام کرنے کا بہت متمنی تھا،میں پہلے جائزہ لیتاہوں پھر تبدیلیاں لے کر آتاہوں،کرکٹ میں ہر ڈپارٹمنٹ کاریویوہوگا،اعلیٰ پروفیشنل ادارہ بنانا چاہتاہوں۔