سینئر صحافی رضوان رضی کو عدالت میں پیش کردیا گیا

سینئر صحافی رضوان رضی کو عدالت میں پیش کردیا گیا

لاہور:سینئر صحافی رضوان رضی کو عدالت میں پیش کردیا گیا جبکہ کیس کی سماعت ڈیوٹی مجسٹریٹ اسد گجر کی عدالت ہوئی۔


اس موقع پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا کسی کے خلاف بات کرنا جرم ہے ؟بادی النظر میں الزامات کیا جرم کے زمرے میں آتے ہیں ،اس مقدمہ کا مدعی کون ہے؟عدالت نے اظہار برہمی کیا کہ ایف آئی اے کا افسر کیوں مدعی نہیں بنا ؟عدالت کی جانب سے کہا گیا بادی النظر میں مقدمہ کی تمام دفعات قابل ضمانت ہیں جبکہ رضوان رضی نے پاکستان کی سالمیت کے خلاف کوئی بات نہیں کی ایسے میں 123کا کیس نہیں بنتا۔

ذرائع کے مطابق رضوان رضی کے وکلاءنے عدالت میں بتایا کہ صرف سبق سیکھانے کے لیے رضوان رضی کو گرفتار کیا گیا۔مدعی کے بغیر درج ایف آئی آر کی قانونی حیثیت نہیں ہے،رضوان رضی کریمنل نہیں ہے مگر اسکو ہتھکڑیوں میں عدالت میں لایا گیا ہے۔

وکلاءنے مزید دلائل دیتے ہوئے استدعا کی کہ ذاتی رائے کو جرم نہیں کہاجا سکتا،عدالت رضوان رضی کی ہتھکڑیوں کو کھلوائے جبکہ تفتیش افسر مدعی کے بغیر کس طرع تفتیش کر سکتا ہے اورمدعی کے بغیر ایف آئی آر کو کالعدم قرار دیا جائے اوررضوان رضی کو بے گناہ قرار دے کر رہائی کا حکم دیا جائے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا رضوان رضی سیکرٹرین ہے؟ دیکھنا ہے کہ سائبر کرائم قانون کے تحت رضوان رضی نے جرم کیا۔وکلاءرضوان رضی نے عدالت کو بتایا کہ تین الزامات پر ایف آئی آر درج ہوئی،رضوان رضی نے اپنی راہے کا اظہار کیا،دیکھنا ہے کہ ایف آئی اے نے کس کے ایما پر رضوان رضی کو گرفتار کیا۔