کمسن بچی کا مبینہ زیادتی کے بعد قتل، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا نوٹس

 کمسن بچی کا مبینہ زیادتی کے بعد قتل، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا نوٹس

قصور: صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں ایک اور کمسن بچی کو مبینہ زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا جس کا چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے نوٹس لے لیا۔ پولیس کے مطابق قصور کے علاقے روڈ کوٹ کی رہائشی 7 سالہ بچی 5 جنوری کو ٹیوشن جاتے ہوئے اغواء ہوئی اور 4 دن بعد اس کی لاش کشمیر چوک کے قریب واقع ایک کچرہ کنڈی سے برآمد ہوئی۔ پولیس کے مطابق بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد گلا دبا کر قتل کیا گیا۔


ڈی پی او قصور ذوالفقار احمد نے میڈیا کو بتایا کہ شہر میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے تفتیش جاری ہے جبکہ بچی کے لواحقین نے بھی سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کی ہے۔ ڈی پی او کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں بچی کو ملزم کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ مقتولہ بچی کے والدین عمرہ کی ادائیگی کے لیے گئے ہوئے ہیں۔

سی سی ٹی وی فوٹیج میں بچی کو ملزم کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھا گیا!

واقعے کی خبر ملتے ہی لوگوں نےاحتجاج کرتے ہوئےسڑکیں بلاک کردیں۔  دوسری جانب جگہ جگہ پولیس کے خلاف مظاہرے بھی کیے گئے اور فیروز پور روڈ پر مظاہرین نے پولیس کو دھکے بھی دیئے۔ مشتعل احتجاجی مظاہرین قصور میں ڈی سی آفس کا گیٹ توڑ کر اندر گھس گئے۔ مشتعل مظاہرین پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور پتھراؤ کیا۔ مظاہرین نے پولیس موبالوں کے شیشے توڑ دیئے۔

حالات کشیدہ ہونے پر پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ قصور میں ایک سال کے دوران 11 کمسن بچیوں کو اغوا کے بعد قتل کیا گیا لیکن پولیس ایک بھی ملزم کو گرفتار نہیں کر سکی۔

وزیراعلیٰ شہباز شریف نے قصور میں مبینہ زیادتی کے بعد بچی کے قتل کا نوٹس لے لیا۔ شہباز شریف نے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے انسپکٹر جنرل (آئی جی) سے رپورٹ طلب کر لی اور ہدایت کی کہ قاتلوں کو گرفتار کر کے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں