بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر میں دفعہ 144 کو غیر قانونی قرار دیدیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر میں دفعہ 144 کو غیر قانونی قرار دیدیا
کوئی شک نہیں کہ جمہوری نظام میں اظہار رائے کی آزادی اہم ہوتی ہے، سپریم کورٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

نئی دہلی: مقبوضہ کشمیر میں پابندیوں سے متعلق کیس میں بھارتی سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اظہار رائے کو دبانے کے لیے دفعہ 144 نافذ نہیں کی جا سکتی۔ بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر میں پابندیوں اور کرفیو کے خلاف دائر متعلق درخواستوں پر فیصلہ سنا دیا ہے۔


بھارتی عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کوئی شک نہیں کہ جمہوری نظام میں اظہار رائے کی آزادی اہم ہوتی ہے، اظہار رائے کی آزادی کے تحت انٹرنیٹ تک رسائی بنیادی حقوق میں شامل ہے۔

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اختلاف رائےکو دبانےکیلئے دفعہ 144 کو استعمال نہیں کیا جا سکتا، انٹرنیٹ کو محدود یا معطل کرنے کے احکامات کی عدالتی جانچ ہو گی۔

خیال رہے کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت سے متعلق آئین کا آرٹیکل 270 اور 35 اے ختم کر کے مقبوضہ جموں و کشمیر کو وفاق کے زیرِ انتظام دو حصوں یعنی (UNION TERRITORIES) میں تقسیم کر دیا جس کے تحت پہلا حصہ لداخ جب کہ دوسرا جموں و کشمیر پر مشتمل ہو گا۔