قومی اسمبلی میں زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری بِل 2019ء منظور

قومی اسمبلی میں زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری بِل 2019ء منظور
Image Source: File Photo

اسلام آباد: بچوں کے خلاف جرائم کے سدباب کے لیے قومی اسمبلی نے زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری بِل 2019ء کی متفقہ طور پر منظور کر لیا.


تفصیلات کے مطابق ، رپورٹ درج ہونے کے دو گھنٹوں کے اندر کارروائی لازم ہوگی جبکہ جنسی زیادتی کا مقدمہ درج ہونے کے تین ماہ کے اندر سماعت مکمل ہوگی۔ قانون کا اطلاق وفاقی دارالحکومت کی حدود تک ہوگا۔

زینب الرٹ بل وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شریں مزاری نے قومی اسمبلی پیش کیا۔ بل کے مطابق اگر 18 سال سے کم عمر لڑکے یا لڑکی کو اغوا کے بعد قتل یا شدید زخمی کر دیا جاتا ہے یا اسے جنسی استحصال کے لیے فروخت کر دیا جاتا ہے تو ایسے مجرم کو سزائے موت، عمر قید یا پھر زیادہ سے زیادہ 14 سال اور کم سے کم سات سال قید کی سزا دی جائے گی۔

اس بل کے تحت ایک ہیلپ لائن بھی قائم کی گئی ہے جس کا نمبر 1099 ہے۔ اس کے علاوہ ایس ایم ایس اور ایم ایم ایس سروس بھی شروع کی جائے گی۔

زینب الرٹ بل میں کہا گیا ہے کہ جائیداد کے حصول کے لیے اگر 18 سال سے کم عمر بچوں کو اغوا کیا جاتا ہے تو مجرم کو 14 سال قید اور جرمانہ ہو گا۔

18 سال سے کم عمر بچے کو ورغلا کر یا اغوا کر کے دوسری جگہ پر لے جانا، والدین یا قانونی سرپرست کی تحویل سے محروم کرنا بھی قابل سزا جرم ہوگا۔

بل کے تحت قومی کمیشن برائے حقوقِ بچگان کا نام تبدیل کرکے زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری ایجنسی رکھ دیا گیا ہے۔ ادارے کی سربراہی ایک ڈائریکٹر جنرل رینک کا افسر کرے گا۔